امریکہ اور ایران کے 45 سال بعد براہ راست مذاکرات، وائٹ ہاؤس سے تصدیق آ گئی: الجزیرہ نیوز کی رپورٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک ) اسلام آباد مذاکرات کے آغاز میں امریکہ کے نائب صدر اور ایران کے سینئیر عہدیداروں کی ملاقات ہو گئی۔ کسی امریکی نائب صدر کی ایرانی وفد سے 46 سال بعد پہلی ملاقات ہوئی ہے جس کی تصدیق وائٹ ہاؤس نے بھی کر دی ہے۔
الجزیرہ نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر امریکی حکام نے اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ارکان سے براہ راست ملاقات کی۔
وائٹ ہاؤس ترجمان نے بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈکشنر بھی مذاکرات میں شریک ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے سلسلے میں براہِ راست مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان کی سفارتی کوششوں سے شروع ہوئے ہیں۔
امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جنہوں نے جنگ بندی مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔
دوسری جانب ایرانی حکام جن میں وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نمایاں ہیں، ن انہوں نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے الگ ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات؛ ابتدا وزیراعظم شہباز نے خود کی، امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں سے ملاقاتیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ تحریری متن کا تبادلہ کر رہے ہیں جس کا مقصد اس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ وہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست ذاتی بات چیت کے پہلے دور میں طے پانے والے معاہدوں پر ایک ہی صفحے پر ہیں۔
اس ہی دوران واشنگٹن میں متعین لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے، جو حالیہ اسرائیل حزب اللہ جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کی پہلی رپورٹ شدہ مثال ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آئندہ ہفتے امریکہ میں اسرائیل اور لبنان کے مجوزہ جنگ بندی مذاکرات ہونے جا رہے ہیں۔