حفظہ گلزار نے آئی وی ایف امیجنگ میں نئی پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پاکستانی محققہ حفظہ گلزار نے پولینڈ میں ایک اہم سائنسی پیش رفت میں حصہ لیا ہے جس کے تحت ہولوٹوموگرافی کی مدد سے زندہ بیضہ خلیات کی سہ جہتی تصاویر تیار کی گئی ہیں،محققین کے مطابق یہ طریقہ اِن وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) میں استعمال ہونے والے بیضہ خلیات کے بہتر انتخاب میں مدد دے سکتا ہے۔
منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والی حفظہ گلزار نے یاگیلونین یونیورسٹی کے مالوپولسکا سینٹر آف بائیوٹیکنالوجی اور پولش اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر فزکس سے وابستہ تحقیقی ٹیم کے ساتھ کام کیا،تحقیق کی تفصیلات کے مطابق ٹیم نے پہلی بار زندہ بیضہ خلیات کی سہ جہتی امیجنگ کے لیے ہولوٹوموگرافی کا استعمال کیا۔ اس تکنیک سے محققین خلیات کی صرف ظاہری شکل ہی نہیں بلکہ ان کی میٹابولک اور بائیو کیمیکل کیفیت کا بھی جائزہ لے سکتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ فرٹیلائزیشن سے پہلے ہی کسی بیضہ خلیے کی نشوونما کی صلاحیت جانچنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے ایمبریالوجسٹس ایسے صحت مند خلیات منتخب کر سکیں گے جن کے کامیاب حمل میں تبدیل ہونے کے امکانات زیادہ ہوں۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق زندہ بیضہ خلیات کی سہ جہتی امیجنگ کے لیے ہولوٹوموگرافی کا یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا استعمال ہے۔
حفظہ گلزار نے اپنے پروفیسرز کی نگرانی میں اس تحقیقی منصوبے پر کام کیا۔ ٹیم نے نہ صرف تجزیے کا نیا طریقہ تیار کیا بلکہ زندہ بیضہ خلیات کو ہولوٹوموگرافی کے ذریعے تیار کرنے اور ان کی امیجنگ کا بھی ایک نیا طریقہ وضع کیا۔
یہ جدید تکنیک خلیے کو زندہ رکھتے ہوئے اس کے اندرونی خواص اور میٹابولزم کا زیادہ تفصیلی جائزہ لینے کی سہولت دیتی ہے۔
محققین کے مطابق پورا عمل تقریباً 10 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے اور مزید تحقیق اور کلینیکل نتائج کی صورت میں مستقبل میں اسے ایمبریالوجی لیبارٹریوں کے معمول کے کام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
موجودہ آئی وی ایف طریقہ کار میں ایمبریالوجسٹس اکثر بیضہ خلیات کا جائزہ خوردبین کے ذریعے ان کی ظاہری ساخت کی بنیاد پر لیتے ہیں۔ نئی تکنیک اس عمل میں خلیے کی میٹابولک اور بائیو کیمیکل حالت سے متعلق اضافی اور نسبتاً معروضی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ اس معلومات سے بہتر اور صحت مند بیضہ خلیات کے انتخاب میں مدد مل سکتی ہے، جس سے کامیاب فرٹیلائزیشن، حمل اور صحت مند بچے کی پیدائش کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
حفظہ گلزار کی اس سائنسی کاوش پر ان کے آبائی علاقے منڈی بہاؤالدین میں خوشی کا اظہار کیا گیا ہے، جبکہ ان کی تحقیق کو بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانی سائنسدانوں کی صلاحیتوں کی ایک اور مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
حفظہ گلزار، گورنمنٹ سر سید ہائی سکول کے سابق سینئر استاد گلزار احمد گوندل کی صاحبزادی ہیں۔
علمی اور سائنسی حلقوں نے بھی پاکستانی محققین کی حوصلہ افزائی اور سرکاری سطح پر زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ملک میں تحقیق اور سائنسی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ تحقیق تولیدی طب میں جدید امیجنگ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کرتی ہے اور آئی وی ایف سے پہلے بیضہ خلیات کے معیار کے زیادہ مؤثر جائزے کے لیے ایک نئی راہ کھول سکتی ہے۔