سیلابی ریلےسندھ میں داخل، مظفر گڑھ میں 8 افراد سیلاب میں ڈوب گئے، 2 کو بچا لیا گیا

Sep 10, 2025 | 09:32:AM
سیلابی ریلےسندھ میں داخل، مظفر گڑھ میں 8 افراد سیلاب میں ڈوب گئے، 2 کو بچا لیا گیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (24 نیوز ) پنجاب میں تباہی مچانے کے بعد  سیلابی ریلے سندھ میں داخل ہوگئے، مظفر گڑھ علی پور کے علاقے سیت پور میں 8 افراد سیلاب میں ڈوب گئے، 2 افراد کو  بچا لیاگیا،ایک بچے کی لاش نکال لی گئی جبکہ 5 کی تلاش جاری ہے۔

  تفصیلات کے مطابق  پنجاب میں تباہی مچانے کے  بعد سیلابی ریلے  سندھ میں داخل ہو گئے۔ہیڈ پنجند پر بہاؤ بڑھ کر 4لاکھ75ہزار کیوسک ہوگیا، گڈو اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہوگئی ۔

 گڈو بیراج پر 4 لاکھ 43 ہزار اور سکھر بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی، پانی کا لیول کم کرنے کیلئے بیراج کے تمام گیٹ کھول دیئے گئے۔

مظفر گڑھ  میں 8 افراد سیلاب میں ڈوب گئے

مظفر گڑھ علی پور کے علاقے سیت پور میں 8 افراد سیلاب میں ڈوب گئے، 2 افراد بچا لیے گئے۔ ایک بچے کی لاش نکال لی گئی جبکہ 5 کی تلاش جاری ہے۔

لودھراں میں  سیلاب میں پھنسے 3لڑکےریسکیو  

لودھراں میں حفاظتی بند ٹوٹنے پر حیات پور، مراد پور اور پیپل والا سمیت متعدد بستیاں زیر آب آ گئیں،سیلاب میں پھنسے تین لڑکوں کو ریسکیو کرلیا گیا۔

 دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ضلع بہاولپور کے 98 مواضعات پانی میں مکمل اور جزوی طور پر ڈوبے ہیں۔ ضلع میں ڈیڑھ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔ 
 ہیڈ گنڈا سنگھ پر انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال رہی، پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، سیلابی ریلوں سے بہاولپور میں 100 کے قریب بستیاں اور موضع جات زیر آب آگئیں، سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کاشت فصلیں دریا برد ہوگئیں۔

منچن آباد  میں بستیاں اور رابطہ سڑکیں ڈوب گئیں

منچن آباد کے مقام پر بھی ستلج سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، 67 موضع جات، بستیاں اور رابطہ سڑکیں ڈوب گئیں، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں، بہاولنگر میں بھکاں پتن کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب آگیا، اوچ شریف میں بھی دریائے چناب اور ستلج کے ریلوں سے درجنوں دیہات متاثر ہوئے۔

پاکپتن میں سیلابی صورتحال 

پاکپتن میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، بابا فرید پل کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 25 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

  لڈن  میں سیلابی ریلا رہائشی علاقوں میں داخل

  لڈن کے علاقے چھجو دے میں سیلاب کی تباہ کاریاں مسلسل جاری ہیں۔ سیلابی ریلا رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا ہے، دو سو سے زائد گھر پانی کی نذر ہو گئے۔ کپاس، گنا، دھان، مکئی، تل اور چارہ جات کی کھڑی فصلیں بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔مزید صورتحال جانتے ہیں ہمارے نمائندے بلال شاکر جوئیہ سے۔۔
 بھوآنہ:دریائے چناب  سےدرجنوں دیہات زیر آب آگئے 

بھوآنہ میں  دریائے چناب سے گزرنے والے بڑے سیلانی ریلے نے ہر طرف تباہی مچا دی ۔ درجنوں دیہات زیر آب آگئے، سینکڑوں گھر تباہ ہوگئے۔موضع سلیمان،رحمان کالونی،شیر آباد اور دیگر علاقوں کا بڑا قبرستان بھی سیلابی ریلے کی زد میں آ گیا۔۔قبرستان کی حفاظتی دیوار سیلابی ریلے میں تباہ ہو گئی ۔ 

احمد پور سیال کی بستی غازی آباد کو بھی سیلابی پانی نے گھیر لیا

احمد پور سیال کی بستی غازی آباد کو بھی سیلابی پانی نے گھیر لیا۔ بستی غازی آباد کا شہر کے ساتھ زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ 

 اوچ شریف میں  ریسکیو آپریشن کا مطالبہ
 اوچ شریف کے نواحی علاقے موضع چک کہل ، موضع گمانی سمیت درجنوں بستیوں کے مکین سیلابی پانی میں پھنس گئے ۔ انتظامیہ سے فوری ریسکیو آپریشن کا مطالبہ ۔ 

 جلالپور پیر والا  میں  پاک فوج  کا  ریسکیو آپریشن جاری

جلالپور پیر والا اور گرد و نواح کے علاقے سیلابی ریلوں سے شدید متاثر ہوگئے۔ پاک فوج اور سول انتظامیہ کا مشترکہ ریسکیو آپریشن بھرپور طریقے سے جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔  ہزاروں متاثرہ افراد اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کردیئے گئے۔