افغانستان کو کوئی مسئلہ ہے تو ہم سے رابطہ کرے،اعجاز محمود
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں ایسا مواد موجود ہے جس پر آنے والے دنوں میں بات کی جائے گی،ماجد نظامی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)دفاعی تجزیہ کار اعجاز محمود ملک کا کہنا تھا کہ ہر ریاست کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ہمارے ہمسائے اس کو کمزوری سمجھیں تو پھر کارروائی کرنا ضروری ہے۔
24نیوز کے پروگرام دستک میں گفتگو کرتے ہوئے اعجاز محمود ملک کاکہناتھا کہ بھارت افغانستان کی پشت پر کھڑا ہےاور اس کی طرف سے افغانستان کی خودمختاری کی بات کرنا زیب نہیں دیتا۔پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے۔لیکن اگر کوئی پاکستان کی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو پاکستان جوابی رد عمل دے گا۔
ان کاکہناتھا کہ افغانستان کو پاکستان سے کوئی مسئلہ ہے تو وہ ہم سے رجوع کرے لیکن اگر وہ ہم سے رابطے بڑھانے کی بجائے دشمن کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو پھر پاکستان مجبور ہوگا کہ وہ ان عناصر کیخلاف کارروائی کرے۔
یہ بھی پڑھیں:افسوسناک خبر!دوسرے شہر سے ماں کی میت لاتے ہوئے بیٹا بھی ٹریفک حادثے میں ہلاک
پروگرام کے دوسرے حصے میں گفتگو کرتے ہوئے مجید نظامی کا گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس میں ایسا مواد موجود ہے جس پر آنے والے دنوں میں بات کی جائے گی۔خیبرپختونخوا میں بیڈ گورننس پر بھی اس پریس کانفرنس میں بات ہوئی جو اس بات کی دلیل ہے کہ اداروں میں بھی عوام کے مسائل کی تپش پہنچ رہی ہے۔
ماجد نظامی کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے کے حوالے سے تحریک انصاف کا بظاہر مقصد تو صوبے میں موجود دہشتگردی کے حوالے سے ہے ۔لیکن اصل مسئلہ اختلافات ہیں اور ان اختلافات کی روشنی میں علی امین گنڈاپور کو ہٹایا گیا۔نئےوزیر اعلیٰ کے آنے سے صوبائی حکومت کے چیلنجرز ویسے ہی رہیں گے ۔جیسا کہ علی امین گنڈاپور وفاق کے ساتھ 24 گھنٹے انگیج رہتے تھے ۔اسی طرح سہیل آفریدی کو بھی انگیج رہنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں:یکم نومبر سے قبل تنخواہ اور پنشن ادا کرنے کا حکم، سرکاری ملازمین کی موجیں ہو گئیں