امن کانوبل انعام ٹرمپ حاصل کرپائیں گے؟فیصلہ آج ہوجائے گا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں نوبل کمیٹی آج امن کے نوبل انعام کا اعلان کرے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نوبل امن انعام کے لیے خاصے پرامید نظر آتے ہیں اوربدھ کے روز اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاتھاکہ اگر مجھے یہ انعام نہیں دیا جاتا تو یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی توہین ہو گی۔
ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے عالمی امن کے لیے کئی اہم اقدامات کیے جن میں حالیہ غزہ جنگ بندی معاہدہ، ابراہام معاہدے اور کووِڈ ویکسین کی فوری تیاری شامل ہیں،ان کے حامی سات جنگوں کے خاتمے اور روس یوکرین مسئلے کو بھی حل کروانے کا دعویٰ کر تےہیں۔
اسرائیل جنگ بندی کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب نوبل امن انعام کے اعلان میں محض دو دن باقی تھے۔
امریکی اخبار’’واشنگٹن پوسٹ ‘‘کے مطابق اسرائیل کے سابق اعلیٰ مذاکرات کار کے مطابق نوبل انعام کے اعلان کی ٹائم لائن نے دونوں فریقین پر دباؤ ڈالا تاکہ معاہدہ جلد طے پا سکے اور اس کا فائدہ ٹرمپ کو ملے۔
پاکستان، اسرائیل، کمبوڈیا اور تائیوان نے بھی ٹرمپ کوامن کے نوبل انعام کئے لئے نامزد کیاہے,دوسری طرف امریکہ میں بھی سی ای او Pfizer البرٹ بورلا اور سینیٹر بل کیسیڈی سمیت کئی اہم شخصیات انہیں نوبل انعام کے لیے موزوں قرار دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فنکشنل مسلم لیگ کے دواہم رہنما ؤں کی پیپلزپارٹی میں شمولیت
اوسلو کے پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ڈائریکٹر نینا گریگر کے مطابق نوبل انعام عموماً گزشتہ سال کی کارکردگی کو مدنظر رکھ کر دیا جاتا ہے جبکہ 2024 میں ٹرمپ منتخب تو ہو چکے تھے، مگر انہوں نے صدر کا عہدہ ابھی سنبھالا نہیں تھا،علاوہ ازیں نوبل کمیٹی کے سربراہ نے تصدیق کی ہے کہ اس سال کے انعام پر فیصلہ پیر کے روز ہی ہو چکا تھا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس سال کی ممکنہ فہرست میں ٹرمپ کا نام شامل نہیں جبکہ وہ ادارے شامل ہیں جن سے ٹرمپ کے تعلقات تناؤ کا شکار رہے،اگر آج ہونے والے اعلان میں ٹرمپ کا نام نہ آیا تو بھی اُن کے حامی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، سینیٹر کیسیڈی اور نمائندہ کلاڈیا ٹینی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے سال ٹرمپ کو دوبارہ امن کے نوبل انعام کے لئے نامزد کریں گے۔
اب دیکھنایہ ہے کہ کیاڈونلڈٹرمپ اس سال امن کانوبل انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یااگلے سال پھروہ اس دوڑمیں شامل ہوتے ہیں?فیصلہ آج ہوجائے گا۔