آئینی عدالت بنانے پر سینہ ٹھونک کر کھڑے ہیں؛عامر حسن
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن نے کہا ہےکہ آئینی عدالت بنانے پر پاکستان پیپلزپارٹی نے میثاق جمہوریت میں بھی اتفاق کیا تھا اور آئینی عدالت بنانے پر سینہ ٹھونک کر کھڑے ہیں۔
24نیوز کےپروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے ہوئے پاکستان پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما بیرسٹر عامر حسن نے کہا کہ کسی کو اچھی لگے یا بری27 آئینی ترمیم ہو چکی ہے،ہم پر الزام لگانے والی تحریک انصاف نے اپنی حکومت میں جو 21ویں آئینی ترمیم کی تھی، وہ مکمل پرسن سپیسیفک تھی تحریک انصاف کے دوستوں کا کام ہی صرف سیاپا ڈالنا ہے اب انہیں چاہیے کہ صبر کریں اور اگر وہ مستقبل میں حکومت میں آئے اور ان کے پاس 2 تہائی اکثریت ہو تو وہ اس اس آئینی ترمیم کو واپس کر سکتی ہے،انہوں نے کہا کہ اب تنقید کرنے کے بجائے سب سیاسی جماعتوں کو چاہیے کے وہ مل کر فیصلہ کریں کے آئین میں کیا بہتری ہونی چاہیے ۔
پروگرام میں شامل پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سید علی بخاری نے کہا کہ تحریک انصاف نے کوئی پرسن سپیسیفک آئینی ترمیم نہیں کی، پاکستان کے دستور کے مطابق طاقت کا سرچشمہ عوام ہے،اس آئینی ترمیم میں 100 لوگوں کے علاوہ بتا دیں کہ 24 کروڑ لوگوں کو فائدہ ہو رہا ہوتو ایسی کسی آئینی ترمیم کا کیا فائدہ کسی بھی دنیا کے ملک میں جہاں جمہوریت ہو وہاں ایسی قانون سازی نہیں ہوتی، انڈیا میں 100 آئینی ترمیم ہوئی جو متفقہ طور پر ہوئیں اس کو آئین کہتے ہیں ہمارے دور میں جو 21آئینی ترمیم ہوئی اس میں 343 میں سے 242 لوگوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا،ان کا مزید کہنا تھاکہ اس آئینی ترمیم کے پاس ہونے سے پہلےتو کابینہ کو بھی نہیں پتہ تھاکہ کیا ہونے جا رہا ہے ۔
پروگرام میں شریک پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے سید علی بخاری کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کوئی ایسی آئینی ترمیم نہیں کی جو پرسن سپیسیفک ہو ۔
27آئینی ترمیم میں جو آئینی عدالت بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، یہ 2010 سے زیر غور تھی،بھارت نے جو آئینی ترامیم کی ہیں اس میںبھی بی جے پی اور کانگریس میں کوئی اتفاق نہیں تھا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف میں بدتمیزی کا کلچر موجود ہے،27ویں ترمیم میں رہ گیا ہے ،وہ 28ویں ترمیم میں پورا ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : افغانیوں کی شناختی کارڈ کے ذریعے وارداتیں منظر عام پر