’’معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار‘‘ پروگرام ’’نور سحر ‘‘میں علمی نشت کا انعقاد
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)معروف ٹی وی پروگرام ’’نورِ سحر‘‘ میں ایک روح پرور اور علمی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع ’’ معاشرتی امن و ترقی میں اخلاقی اقدار کا کردار ‘‘ تھا۔
جسٹس (ر) نذیر احمد غازی نے کہاکہ اللہ تعالی نے حضور ﷺ کی تریسٹھ سالہ حیات کو پوری کائنات کے لیے اسوہ کامل ٹھہرایا ہے،انہوں نے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم حضور ﷺ کے اخلاقی نمونے کے قریب ہیں؟ ہمارے زوال کی اصل وجہ اخلاقی کمزوری ہے، صوفیائے کرام نے عمل سے دل جیتے، صرف وعظ سے نہیں، نبی اکرم ﷺ کے اخلاقی کردار نے دنیا کے دل بدلے، نہ کہ طویل خطبات نے،انہوں نے کہا کہ آج امت میں فرقہ واریت، بددیانتی، اور نفرت انگیزی عام ہو چکی ہے، بعض خطیبوں کے متعصبانہ رویے نوجوان نسل کو دین سے دور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’اسلام کے پیغام کو زندہ کرنے کے لیے بیانات نہیں، کردار کی ضرورت ہے‘‘،پروفیسر ڈاکٹر مدثر حسین سیان نے کہا کہ انسان اور حیوان میں فرق اخلاق ہے، جب انسان اخلاقی حدود توڑ دیتا ہے تو حیوان سے بھی بدتر ہو جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی آلودگی سے بھر چکا ہے ایمانداری، انصاف اور دیانت کی قدریں کمزور پڑ چکی ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ہم گفتار کے غازی تو بن گئے، کردار کے غازی نہ بن سکے،انہوں نے کہا کہ اسلام کردار کے ذریعے پھیلا انڈونیشیا اور ملیشیا میں صوفیائے کرام اور تاجروں نے اپنے عمل سے دل جیتے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان حج 2026کے انتظامات پر معاہدہ
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج منبر و محراب اخلاق اور روشنی کے مراکز کے بجائے نمود و نمائش کے استعارے بن چکے ہیں،پروفیسر حافظ ناصر محمود نے کہا کہ جب معاشرہ سچائی، انصاف اور قربانی جیسی اقدار سے منہ موڑ لیتا ہے تو تباہی یقینی ہو جاتی ہے،انہوں نے کہا کہ خلافتِ راشدہ کے دور میں عدل و مساوات کی وہ مثالیں ملتی ہیں جنہیں آج کے حکمرانوں کے لیے نمونہ بننا چاہیے،انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بگاڑ کا واحد علاج قانون کی حکمرانی اور اخلاقی اقدار کی بحالی ہے،مفتی ذیشان احمد حسان نے کہا کہ انسان کی اصل خوبصورتی اس کے اخلاق میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ "اخلاق" کا مادہ “خا، لام، کاف” ہے، جس سے "خلق" اور "تخلیق" جیسے الفاظ نکلتے ہیں، "خلق" اللہ کی عطا ہے، جبکہ "اخلاق" انسان کا اختیار،انہوں نے کہا کہ دل اگر درست ہو جائے تو کردار سنور جاتا ہے،ان کے مطابق کامیاب انسان کے لیے پانچ اوصاف ضروری ہیں، اخلاص، صبر، شکر، توکل اور عاجزی، یہی صفات معاشرے میں محبت، بھائی چارہ اور امن کو فروغ دیتی ہیں۔