کیا قومی ٹیم چیمپئنز ٹرافی کیلئے تیار ہے؟
از: دلبر خان
Stay tuned with 24 News HD Android App
تین ملکی سیریزاور چیمپئنز ٹرافی سے قبل قذافی سٹیڈیم کا نیا روپ دیکھ کر ہر کوئی دانتوں میں انگلی دبانے پر مجبور ہو گیا، محسن سپیڈ نے مختصر مدت میں سٹیڈیم کو نیا بنا کر ثابت کردیا کہ ان کا عملی طور پر کارکردگی دکھانے میں کوئی ثانی نہیں، سٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کے بعد منعقد ہونیوالی دلکش تقریب بھی اپنی مثال آپ تھی اور پی سی بی سربراہ کا کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمینوں کو اکٹھا کرنا قابل رشک تھا، محسن نقوی نے ایک دوسرے پر تنقید کے نشتر چلانے والوں کو ایک ساتھ بٹھا کر پورے ملک میں پیغام پہنچایا کہ ’’ہم پاکستان ہیں‘‘۔سٹیڈیم کی تعمیر میں دن اور رات نہ دیکھنے والے مزدوروں کے اعزاز میں ظہرانہ اور ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا، پھر ضروریات کے متعلق پوچھنا محسن نقوی کا ہی کام ہے۔ محسن نقوی کی کاوشوں کی تصدیق ایک مزدور کے یہ الفاظ واضح طور پر کرتے ہیں جس میں اس کا کہنا تھا ’’صاحب، کم تے مشکل لگدا سی لیکن سٹیڈیم ویکھ کے دل خوش ہوگیا اے‘‘، (صاحب کام مشکل لگتا تھا لیکن سٹیڈیم کو دیکھ کر دل خوش ہوگیا ہے)۔
پاکستان نیوزی لینڈ سے ہار گیا لیکن اس شکست نے پاکستانی ٹیم میں موجود خامیوں کو آشکارکیا،سلیکٹرز کی طرف سے ٹیبل پر بنائی جانیوالی ٹیم بظاہر بڑی مضبوط نظر آرہی تھی لیکن میدان میں یہی ٹیم وہ خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی جس کی سب اس سے توقع کر رہے تھے۔لش پش وکٹ پر نیوزی لینڈ کو پہلے بیٹنگ کا ایڈوانٹیج حاصل رہا، ابتدائی اووروں میں لگتا تھا کہ نیوزی لینڈ دوسو پلس یا تھوڑا اس سے زیادہ رنز کرسکے گی لیکن ڈیتھ اوورز میں پاکستانی ٹاپ باؤلر تھکے تھکے نظر آئے جس کا فائدہ نیوزی لینڈ کے مڈل آرڈرز نے بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ فخر زمان کا فارم میں آنا خوش آئند،بابر ابھی تک تھری فیگر اننگز کھیلنے کو ترس رہے ہیں، سابق پاکستانی کپتان کو دنیا کی تمام ٹیمیں ٹریپ کر چکی ہیں جیسے چھکوں کے سپیشلسٹ آصف علی پر انہوں نے قابو پایا تھا۔ آصف کو تیز باؤلر’’ پیس چینج‘‘ سے یعنی سلو ڈلیوری پر پویلین کی راہ دکھا دیتا تھا اسی طرح بابر اعظم کو تمام ٹیمیں اپنی سپن باؤلنگ کی مدد سے آؤٹ کر دیتی ہیں، بابر اب تک 62 اننگز میں ایک بھی سنچری سکور نہیں کر سکے۔ سپن کے سامنے پرفیکٹ ہونے کیلئے بابر کو چار پانچ سپنرز کے ساتھ نیٹ میں زیادہ سے زیادہ پریکٹس کرنا ہوگی۔بابر کو اپنا فٹ ورک بہتر کرنا ہوگا۔ فٹ ورک بہتر نہ ہونے کی وجہ سے بابر متعدد باریوں میں شارٹ مڈ وکٹ پر آؤٹ ہو چکے ہیں۔کیویز ٹیم دو سپیشلسٹ سپنرز کے ساتھ میچ کیلئے میدان میں اتری لیکن اس کے برعکس پاکستان نے ابرار پر ہی اکتفا کیا، سلیکٹرز کو چاہئے کہ کوٹہ سسٹم سے باہر نکلتے ہوئے ٹیسٹ کے منجھے ہوئے آف سپنر ساجد خان کو چیمپئنز ٹرافی کے سکواڈ میں موقع فراہم کریں کیونکہ کرکٹ کا کوئی بھی فارمیٹ ہو آف سپنر کا گیند جب بریک ہونے لگے تو پھر ٹیسٹ ہو ،ون ڈے ہو یا ٹی ٹونٹی اس نے بیٹسمین آؤٹ کرنا ہی ہوتا ہے۔
گو کہ تین ملکی سیریزقومی ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی سے قبل پریکٹس فراہم کرنے کا ذریعہ ہے لیکن ایک بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ ٹیم کی اس سیریز میں پرفارمنس میگا ایونٹ میں بڑی اہمیت کی حامل ہوگی، ورنہ یہی جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں پاکستان کو تر نوالہ سمجھیں گی.نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں آغا سلمان، طیب طاہر، کامران غلام کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی فریش نظر نہیں آرہا تھا، شاہین، نسیم اور حارث کی باڈی لینگوئج سب کچھ بتارہی تھی دوران فیلڈنگ ان تینوں کے بار بار گراؤنڈ سے باہر جانے پر بھی شائقین حیران ہیں، ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ہی سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا قومی ٹیم چیمپئنز ٹرافی کیلئے تیار ہے؟
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں،ایڈیٹر