وزیراعلیٰ بلوچستان کی دہشتگردوں کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ جو بھی ریاست سے بات کرنا چاہتا ہے، وہ ہتھیار ڈال کر آئے، ہم گلے لگائیں گے، حکومت اور ریاست نے کبھی بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے۔
اتوار کو سندھ کے ضلع مٹیاری کے علاقے بھٹ شاہ میں اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آئین میں رہتے ہوئے بات چیت کے لیے ہر شخص کو خوش آمدید کہا جائے گا لیکن یہ ناقابل برداشت ہے کہ معصوم مزدوروں کو بسوں سے اُتار کر قتل و غارت کی جائے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مسنگ پرسنز کی تعداد بلوچستان سے زیادہ ہے لیکن وہاں میڈیا اس مسئلے پر بات نہیں کرتا، اس کے برعکس بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے نام پر ریاست کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔
انھوں نے سوال اُٹھایا کہ کراچی سے خیبر تک مذہب کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کو دہشت گردی کہا جاتا ہے مگر بلوچستان میں دہشت گردی کو مختلف نام کیوں دیئے جاتے ہیں؟
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میڈیا سے درخواست ہے کہ بلوچستان کو صرف چند مخصوص افراد کی عینک سے نہ دیکھا جائے بلکہ دنیا کے سامنے بلوچستان کی اصل تصویر پیش کی جائے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا کہ ایرانی زائرین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فضائی اور فیری سروس کا آغاز کیا جا رہا ہے۔زائرین کے مسائل کی اصل وجوہات کچھ اور ہیں یہ صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں :وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’ہونہار سکالرشپ‘‘ پروگرام کے دوسرے مرحلے کا اعلان کر دیا