وزیراعظم کا  پاک بحریہ کو گولڈ آٹم جہاز کے عملہ کو حفاظت کے ساتھ کراچی لے آنے پرخراجِ تحسین

Apr 10, 2026 | 20:59:PM
 وزیراعظم کا  پاک بحریہ کو گولڈ آٹم جہاز کے عملہ کو حفاظت کے ساتھ کراچی لے آنے پرخراجِ تحسین
کیپشن: بحیرہ عرب میں مسئلہ کا شکار ہو کر ہنگامی مدد کے سگنل بھیجنے والے تجارتی جہاز گولڈ آٹم کی ایک فائل فوٹو۔ اس جہاز کو عمان کی بندرگاہ پر جانا تھا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)وزیراعظم شہباز شریف نے شمالی بحیرۂ عرب میں ہنگامی انسانی امدادی کارروائی کے دوران مختلف ممالک کے 18 افراد پر مشتمل عملے کو بحفاظت ریسکیو کرنے پر پاک بحریہ کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

وزیراعظم نے پاک بحریہ کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، فوری ردعمل اور انسان دوستی کے جذبے کو سراہا ۔

مرچنٹ ویسل “گولڈ آٹم” سے ہنگامی مدد کے سگنل ملے تھے۔  ہنگامی مدد کے سگنل ملنے پر پاک بحریہ کے جہاز "پی این ایس حنین" نے فوری اور مؤثر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیا.

 وزیراعظم شہباز شریف نے کہا، ریسکیو  آپریشن میں چین، بنگلہ دیش، میانمار، ویتنام اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے عملے کے تمام ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا۔

وزیراعظم  ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان مین بتایا گیا کہ اس وقت  گولڈ آٹم سے ریسکیو کئے گئے تمام افراد کو کراچی  میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کی اپنے اپنے ملک واپسی کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم  شہباز شریف نے کہا،  پاک بحریہ اپنی ذمہ داری کے دائرۂ کار میں ہر قسم کی بحری ہنگامی صورتحال میں ہمیشہ اولین امدادی ادارے کے طور پر کردار ادا کرتی رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  پاک بحریہ کا شمالی بحیرہ عرب میں  سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن،  تجارتی بحری جہاز کے18 افراد کو بچالیا 

گولڈ آٹم  پاناما سے تعلق رکھنے والا بحری تجارتی جہاز ہے جو  بحر ہند سے آ کر بحیرہ عرب سے ہوتے ہوئے  11.4 ناٹ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے عمان کے شہر سہر کی بندرگاہ پر جا رہا تھا  اور اس کے  9 اپریل، 02:30 کو وہاں عمان کی بندرگاہ پر پہنچنے کی توقع تھی۔  گولڈ آٹم (IMO 9220483, MMSI 352867000) ایک بلک کیریئر ہے جو 2001 میں بنایا گیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر 25 سال ہے اور اس وقت وہ پانام کے  پرچم کے  ساتھ سفر کر رہا ہے ۔