ادویات کے غیر ضروری استعمال سے گردے کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں:ڈاکٹر علی ثقلین
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) ڈاکٹر علی ثقلین نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں لوگ ڈاکٹر کو سب سے پہلی ترجیح سمجھتے ہیں جبکہ ہمارے لوگ جب تک شدید بیمار نہ ہو جائیں ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کا صحت کے بارے میں کیا رحجان ہے ۔
نیفرالوجسٹ ڈاکٹر علی ثقلین نے مارننگ ود فضا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گردوں کی بیماریوں کی تین وجوہات ہیں غذائی وجوہات ، موراثی یا ادویات کے غیر ضروری استعمال کے باعث بھی گردے کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں ، پاکستان میں گوشت خوری کا ٹرینڈ ہے ، جنگ یا فاسٹ فوڈ ہائی سالٹ ڈائٹ لی جا رہی ہے ، آپ بہت زیادہ پروٹین لے رہے ہیں ، ہم نے گردوں کو اتنے پریشر مین ڈال دیا ہے ، جس کی وجہ سے نظام اخراج خراب ہو رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں کہ 24 گھنٹوں میں کتنا پانی پینا چاہیے ، جیسے ہی پیشاب گاڑھا ہوتا ہے، گردے میں پتھری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ، جسم میں یورک ایسڈ کا بڑھ جانا پتھریاں بناتا ہے ، کیلشیم ، وٹامن ڈی میں اضافہ، موٹاپا یا آنتوں کی بیماریاں ہیں ، اسپرین اور انٹی بائیوٹک بھی گردوں کی بیماریاں پھلاتی ہیں۔
ڈاکٹر علی ثقلین نے کہا کہ ہر گیارھواں مریض پاکستان میں کڈنی سٹون کا مریض ہے ، مردوں میں یہ مرض زیادہ ہے ، گردے میں پتھری کی کیا احتیاط ہے ، پتھری قدرتی طور پر نکل آتی ہے ، پانچ ملی میٹر سے بڑی پتھری نہیں نکل سکتی ، چھوٹی نکل سکتی ہے، گردے میں پتھری کا سالہا سال معلوم نہیں ہوتا جب یہ پیشاب کی نالی میں جاتی ہے تب خون آتا ہے یا درد ہوتی ہے، درد پیچھے سے شروع ہو تا ہے اور تیز بخار بھی ہو سکتا ہے ، جب پتھری پیشاب کی نالی کے راستے میں پھنس جائے تو گردہ پھولنا شروع ہو جاتا ہے
انہوں نے کہا کہ ایسی سچویشن میں لیزر سے سٹون ختم کیا جا سکتا ہے ، آجکل 95 کٹ لگا کر آپریشن نہیں ہوتا ، اگر سائز بڑا ہو تو پھر سرجری کی جاتی ہے ،مثانے کے انفیکشن بھی سٹول بناتے ہیں ، کچھ سٹونز لمبائی یا گولائی میں ہوتے ہیں ، کچھ میں چونچیں نکلی ہوتی ہیں ، جس سے نالیوں میں زخم ہونے سے خون نکلتا ہے۔
ڈاکٹر علی ثقلین نے ایک سوال کے جوب میں کہا کہ جن کے گردے میں سٹون ہیں اور گردہ بلاک ہے تو پانی زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے ، جتنا زیادہ لیکوئڈ پی کر یورن زیادہ بنا رہے ہیں گردے کو زیادہ کام کرنا پڑے گا ، خوراک کی احتیاط یہ ہے کہ پالک ، ساگ، میتھی ، ٹماٹر ، وغیرہ استعمال نہ کریں اور دالیں جن میں یورک ایسڈ اور پروٹین ہیں وہ بھی کم استعمال کریں ۔