11 ہزار قیراط وزنی نایاب ترین یاقوت کی دریافت , جواہرات کی مارکیٹ میں تہلکہ مچ گیا

May 09, 2026 | 23:43:PM
  11 ہزار قیراط وزنی نایاب ترین یاقوت کی دریافت , جواہرات کی مارکیٹ میں تہلکہ مچ گیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)   11 ہزار قیراط وزنی نایاب ترین یاقوت کی دریافت نے  قیمتی پتھروں کی مارکیٹ میں تہلکہ مچا دیا۔ 

میانمار میں یاقوت کی ایک کان سے  گیارہ ہزار قیراط کا روبی ( یاقوت) نکلا ہے اسے ملکی تاریخ میں دوسرا سب سے وزنی اور  بڑا  روبی (یاقوت)  قرار دیا جا رہا ہے۔

 میانمار کی وزارت اطلاعات نے بتایا ہے کہ یہ غیر معمولی یاقوت اپریل کے وسط میں میانمار کے  بالائی علاقے میں واقع شہر موگوک کے قریب کان سے دریافت ہوا۔ موگوک میانمار کی قیمتی پتھروں کی صنعت کا اہم مرکز ہے۔

اس یاقوت کا وزن گیارہ ہزار قیراط یعنی  تقریباً 4.8 پاؤنڈ (تقریباً 2.2 کلوگرام) ہے۔ یہ غیر معمولی یاقوت  1996 میں  میانمار کی ہی ایک کان سے نکلنے والے  21 ہزار 450 قیراط  وزنی یاقوت سے وزن میں کنصف کے لگ بھگ ہے لیکن اس   پتھر کی شاندار اور سموتھ رنگت اور معیار زیادہ بہتر ہونے کے باعث اس کی  مارکیٹ میں ویلیو کہیں زیادہ ہے۔

اپریل میں ملنے والے یاقوت کی رنگت جامنی مائل سرخ ہے جس میں ہلکے زرد رنگ کی جھلک ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی درمیانی شفافیت اور چمکدار سطح اسے غیر معمولی اہمیت دیتی ہے۔

میانمار میں حالیہ برسوں میں خانہ جنگی اور نسلی گروہوں کی مسلح  سرگرمیوں کے باعث قیمتی معدنیات کے علاقوں کی صورتحال غیر مستحکم رہی ہے۔ شہر موگوک پر 2024 میں تانگ نیشنل لبریشن آرمی نے قبضہ کر لیا تھا، تاہم بعد ازاں چین کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت کانوں کا کنٹرول دوبارہ میانمار کی فوج کے حوالے کر دیا گیا۔

موگوک کی بڑے سائز کے یاقوت ملتے رہتے ہیں
میانمار کا علاقہ موگوک  ہسٹاریکلی کرہ ارض پر روبی کی سب سے بڑی دریافتوں سے منسلک ہے۔ منڈالے کے وسطی علاقے میں واقع یہ علاقہ  جیم سٹونز  کی مارکیٹ میں قیمتی ترئن پتھروں کے ذخائر کا گھر ہ مانا جاتاے۔

حالیہ  سالوں میں، اس خطے نے دیگر تاریخی دریافتیں ریکارڈ کی ہیں۔ سرکاری تاریخ کے مطابق  1990 میں  موگوک سے  496 کیرٹ کا روبی ملا تھا اور  2022 میں ایک اور 2,789 کیرٹ کا  جیم دریافت کیا گیا ۔

میانمار کی روبی مارکیٹ لاکھوں ڈالر کے کاروبار کے لیے مشہور ہے۔ 2015 میں جنیوا میں سوتھبی کی نیلامی میں 25.59 کیرٹ کا برمی روبی 30.33 ملین امریکی ڈالر میں فروخت ہوا تھا۔

اس جیم نے اس طرح کے کسی پتھر کے لئے ادا کی جانے والی سب سے زیادہ قیمتوں میں سے ایک کا تعین کیا تھا۔ یہ کیس میانمار کے جواہرات میں بین الاقوامی دلچسپی کو تقویت دیتا ہے، خاص طور پر جب وہ بہترین رنگ، اہم وزن، اور روایتی اصل کے خواص سے آراستہ ہوتے ہیں۔

رنگت  جواہرات کی ویلیو بڑھانے  میں مدد کرتی ہے
قیمتی جواہرات کی صنعت کے ماہرین اکثر میانمار کے روبی / یاقوت کو کرہ ارض پر نایاب اور سب سے زیادہ قیمتی  پتھرمانتے ہیں۔

ویلیو کی تشخیص میں بنیادی طور پر اس کے  رنگ کی شدت کو مدنظر رکھا جاتا ہے، روبی (یاقوت) کی قدرتی رنگت کو   "کبوتر کا خون" کہا جاتا ہے۔ میانمار کے علاقہ موگوک میں ملنے والے یاقوت میں یہ گہرا سرخ رنگ عام پایا جاتا ہے اور گہری سرخی میں پرپل رنگت کی جھلک آتی ہو تو یہ اسے زیادہ خاص اور نایاب بناتی ہے۔

نئے  بہت بڑے روبی کے لیے، حکام نے مقامی دریافت کے مرکزی نقطہ کے طور پر ارغوانی سرخ رنگ کو نمایاں بیان کیا۔

وزن، اصل اور رنگ کے امتزاج نے  اس غیر معمولی روبی کی دریافت کے اثر کو مزید تقویت بخشی، حالانکہ اب تک اس کی  قیمت کا کوئی تعین نہیں کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھیئے:  چالیس ملکوں کا آبنائے ہرمز مشن؛ انگلینڈ سب سے بہلے جنگی بحری جہاز بھیجےگا