سربجیت کور کی درخواست پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کر رہے ہیں، کوشش ہے کہ انھیں واپس نہ بھیجا جائے: طلال چوہدری

Jan 09, 2026 | 21:40:PM
سربجیت کور کی درخواست پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کر رہے ہیں، کوشش ہے کہ انھیں واپس نہ بھیجا جائے: طلال چوہدری
کیپشن:  پاکستانی پولیس اہلکاروں کی حراست میں نور فاطمہ (سابقہ نام سربجیت کور) کی فوٹو
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (ویب ڈیسک) پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے امورِ داخلہ طلال چوہدری  نے کہا ہے کہ پاکستان آ کر شادی کرنے والی انڈین خاتون سربجیت کور (جو اب نور فاطمہ ہیں) کی جانب سے واپس انڈیا نہ بھیجنے کی درخواست پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غور کیا جا رہا ہے اور 'کوشش کی جا رہی ہے کہ انھیں واپس نہ بھیجا جائے۔'
سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں اور اُن کے ویزے کی معیاد 13 نومبر تک تھی تاہم وہ واپس انڈیا نہیں گئیں اور انہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد وسطی پنجاب کے شہر شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی۔ تب سے  وہ مسلسل پاکستان میں ہی قیام پذیر تھیں۔
حال ہی میں انھیں ان کے شوہر کے ہمراہ ان کے شوہر کے گھر فاروق آباد سے حراست میں لیا گیا تھا ۔ ابتدا میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سربجیت کور کو انڈیا واپس بھیج دیا جائے۔ اس دوران ر ان کی واہگہ کے راستے انڈیا واپسی کا معاملہ وزارتِ داخلہ کی جانب سے این او سی نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار  ہوا گیا اور فی الحال وہ لاہور کے ایک دارالامان میں قیام پذیر ہیں۔
جمعے کو  ایک غیر ملکی نیوز آؤٹ لیٹ سے  بات کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ 'وہ (سربجیت کور) سمجھتی ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور وہاں (انڈیا) میں مسلمانوں کے لیے چونکہ زندگی بہت مشکل ہے تو انھیں واپس نہ بھیجا جائے۔'

یہ بھی پڑھیئے:   پاکستان منرل انویسمنٹ فورم 2026 ؛ علی پرویز ملک نے پاکستانی سفارتکاروں کو اہم ٹاسک دے دیا
اس سوال پر کہ سربجیت کو واپس انڈیا بھیجنے کے بارے میں حکومت نے کیا فیصلہ لیا ہے، طلال چوہدری نے کہا کہ 'انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور وہاں پر اس وقت اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہے اسی کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ اسی بنیاد پر چیزیں آگے بڑھ رہی ہیں اور کوشش کی جارہی ہے کہ انھیں واپس نہ بھیجا جائے۔'

وزیرِ مملکت نے سربجیت کور کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی جانے والی درخواست کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ 'عدالت نے بھی کہا تھا اور اس پر وزارتِ خارجہ کی معاونت بھی شامل ہے۔ اب وزارتِ داخلہ ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔'
اس سوال پر کہ کیا سربجیت کور کے مبینہ انڈین جاسوس ہونے کے حوالے سے بھی تحقیقات ہو رہی ہیں، طلال چوہدری نے کہا کہ ’اس طرح کی چیزیں ہمارے ادارے کرتے رہتے ہیں۔ فی الحال تو ان کی وہ درخواست زیرغور ہے جس میں انھوں نے انسانی ہمدردی اور انڈیا میں اقلیتوں کے ساتھ روا سلوک کی بنیاد پر بات کی ہے۔ وہ خود اس وقت دارالامان میں ہیں سو ان ساری چیزوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی وزارت داخلہ جلد اس کا فیصلہ کردے گی۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ابھی تو ان کا ویزے کی مدت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اور ویزے کی مزید سہولت دے سکتے ہیں۔‘