عالمی ثالثی عدالت سندھ طاس معاہدہ میں  تین دریاوں پر "صرف ہائیڈرو پاور پراجیکٹس"  لگانے کی مشروط اجازت کی تشریح کرے، پاکستان کا مؤقف

Feb 09, 2026 | 20:50:PM
عالمی ثالثی عدالت سندھ طاس معاہدہ میں  تین دریاوں پر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(اویس کیانی)  ہیگ میں عالمی عدالت برائے ثالثی میں سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان کا بھارت کے خلاف مقدمہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔  ہیگ میں انڈس واٹرز آربیٹریشن کیس کی دوسری فیز کی سماعت مکمل ہو گئی۔
عالمی مستقل عدالت برائے ثالثی میں پاکستان کی نمائندگی پاکستان کے اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کی۔
اٹارنی جنرل منصور عثمان کی معاونت انڈس واٹر ٹریٹی  کےکمشنر مہر علی اور سفیروں نے کی ۔
پاکستان نے بھارت کے  انڈس واٹر ٹریٹی میں شامل دریاؤں سندھ،  جہلم اور چناب  پر بنائے جا رہے ڈیموں کے ڈیزائن اور ہائیڈرو پروجیکٹس پر اعتراضات آربیٹریشن کورٹ میں پیش کئے۔

 پاکستان کا عالمی عدالت میں موقف ہے کہ بھارت دریاۓ سندھ، جہلم، چناب پر  ڈیمز کی تعمیر کر کے معاہدے سے تجاوز کر رہا ہے۔

عالمی عدالت ثالثی نے کہا ہے کہ بھارت کے  ہائیڈرو پروجیکٹس کے نام سے لگائے جا رہے منصوبوں کی نصب شدہ صلاحیت اور ان کی تعمیر کے بعد دریاؤں میں پانی کے متوقع بہاو کا تعین کرنا ضروری ہے۔ 

پاکستان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت بھارت کو سندھ طاس معاہدے  میں تحریر تحت تین دریاوں پر "صرف ہائیڈرو پاور پراجیکٹس"  لگانے کی مشروط اجازت کی تشریح کرے.

عالم یثالثی عدالت میں پاکستان کی درخواست پر بھارت نے  اب تک نہ تو کسی سماعت میں شرکت کی اور نہ ہی پیش ہونے کے نوٹس کا کوئی جواب دیا ہے۔ 

عالمی ثالثی عدالت میں پاکستان کے دعوے کی سماعت کرنے والے بنچ کی سربراہی امریکی پروفیسر شان ڈی مرفی نکر رہے ہیں۔سماعت میں دیگر بین الاقوامی جج بھی شامل ہیں۔
عالمی ثالثی عدالت 127 ممالک پر مشتمل بین الاقوامی تنازعات حل کرنے کا ادارہ ہے۔