پاکستان سے کینو کی برآمدات ، 3 لاکھ ٹن کا ہدف

Dec 09, 2025 | 12:01:PM
پاکستان سے کینو کی برآمدات ، 3 لاکھ ٹن کا ہدف
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)رواں سیزن کیلئے پاکستان سے کینو کی برآمدات کیلئے 3 لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، حکام کا ماننا ہے کہ کینو سمیت زرعی شعبے کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے ہنگامی اقدامات ضروری ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق پاکستان سے رواں سیزن کینو کی برآمدات کا آغاز ہو گیا ہے، یکم دسمبر سے اب تک 6 ہزار ٹن کینو مڈل ایسٹ، سری لنکا اور فلپائن بھیجا جا چکا ہے۔

 آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے رواں سیزن کے لیے 3 لاکھ ٹن کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے پورا ہونے پر 110 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہونے کا امکان ہے۔

گزشتہ سیزن میں پاکستان سے ڈھائی لاکھ ٹن کینو برآمد کیا گیا تھا، جس سے 95 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا تھا۔

 ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ وحید احمد کے مطابق اس سال کینو کی بمپر کراپ ہوئی ہے اور مجموعی پیداوار 27 لاکھ ٹن تک رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ سال 17 لاکھ ٹن تھی

سرپرستِ اعلیٰ وحید احمد کے مطابق پیداوار میں نمایاں اضافے کے باوجود پاکستانی کینو کی برآمدات اب بھی پانچ سال قبل کی 5.5 لاکھ ٹن کی سطح سے  فیصد کم ہیں۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر میں آج انسداد بدعنوانی کا دن منایا جارہا ہے

 ان کے مطابق اس کمی کی بنیادی وجہ کینو کی کاشت میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا فقدان اور ماحول کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ نئی ورائٹی متعارف نہ کرانا ہے۔

وحید احمد کا کہنا ہے کہ پی ایف وی اے نے حکومت کو کینو کی برآمدات بڑھانے کے لیے قلیل، وسط اور طویل المدتی منصوبہ فراہم کیا ہے۔

منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں اگلے 5 سال میں نئی ورائٹیز متعارف کرا کے برآمدات کو 400 ملین ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مصر، امریکا، مراکش اور چین سے کینو کی نئی ورائٹیز حاصل کر کے پاکستان میں کاشت کرنا ہو گی۔

 کم پانی استعمال کرنے والی لیمن، گریپ فروٹ، اورنج اور مینڈرین جیسی اقسام کو ترجیح دینا ہوگی، جن کی عالمی منڈیوں میں طلب بھی موجود ہے۔

ان کے مطابق افغانستان سے تجارت بند ہونے کے باعث وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک زمینی راستے سے کینو کی برآمدات میں مشکلات کا سامنا ہے۔

 ایران کے ذریعے متبادل راستہ طویل اور مہنگا ثابت ہو رہا ہے، سیزن کے آغاز پر ہی ایران کے راستے فریٹ میں 100 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جب کہ لاجسٹکس کے مسائل بھی درپیش ہیں۔