شمالی کوریا بھی ایران کے نقش قدم پر چل پڑا ، خطرناک ترین میزائل کا تجربہ

Apr 09, 2026 | 09:37:AM
شمالی کوریا بھی ایران کے نقش قدم پر چل پڑا ، خطرناک ترین میزائل کا تجربہ
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)شمالی کوریا نے  اعلان کیا ہے کہ رواں ہفتے کیے گئے ہتھیاروں کے تجربات میں مختلف نئے نظام شامل تھے، جن میں کلسٹر بم وارہیڈ سے لیس بیلسٹک میزائل بھی شامل ہیں۔

 یہ اقدامات حریف ملک جنوبی کوریا کے خلاف جوہری صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد کے تحت کیے جا رہے ہیں۔

شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کی رپورٹ ایک روز بعد سامنے آئی۔

 جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا تھا کہ اس نے مشرقی ساحلی علاقے سے دو دنوں میں دوسری بار متعدد میزائل داغے جانے کا سراغ لگایا۔

 نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تجربات پیر سے شروع ہو کر تین روز تک جاری رہے۔

مزید پڑھیں:قطر نے بھی ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیدیا

 تجربات میں فضائی دفاعی ہتھیاروں، مبینہ برقی مقناطیسی (الیکٹرو میگنیٹک) نظاموں اور کاربن فائبر بموں کے مظاہرے بھی شامل تھے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے مطابق بدھ کو داغے گئے میزائل 240 سے 700 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے۔

 منگل کو پیانگ یانگ کے قریب سے کم از کم ایک اور میزائل لانچ کیے جانے کا بھی پتہ چلا۔

جاپان کی وزارت دفاع نے کہا کہ بدھ کو داغے گئے کسی بھی ہتھیار نے اس کے خصوصی اقتصادی زون کی حدود میں داخل نہیں ہوا۔

امریکی فوج کے مطابق منگل اور بدھ کے روز شمالی کوریا کے یہ تجربات امریکا یا اس کے اتحادیوں کے لیے فوری خطرہ نہیں تھے۔