بھارت دنیا کا چوتھا خطرناک ترین ملک

تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

Nov 08, 2025 | 15:11:PM
بھارت دنیا کا چوتھا خطرناک ترین ملک
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت ہے، اپنی معاشی ترقی، ثقافتی تنوع اور عالمی اہمیت کے باعث ہمیشہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ مگر اس چمک دمک کے پیچھے ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے۔ تازہ عالمی درجہ بندیوں میں بھارت کو دنیا کا چوتھا خطرناک ترین ملک قرار دیا گیا ہے، جو اس کے داخلی عدم استحکام، سماجی ناانصافی اور کمزور ادارہ جاتی نظام کی سنگین نشاندہی کرتا ہے۔

بھارت کو خطرناک کیوں قرار دیا گیا؟

اگرچہ بھارت کسی جنگ زدہ ملک کی طرح نہیں، جیسے شام یا یمن، لیکن اس کا نام خطرناک ممالک کی فہرست میں اندرونی خطرات کی بنیاد پر شامل ہے۔ ہیلو سیف (Hellosafe) گلوبل ٹریول رسک انڈیکس 2025 اور دیگر عالمی رپورٹس کے مطابق، بھارت معاشرتی تحفظ، خواتین کے حقوق، اور انسانی سلامتی کے حوالے سے خطرناک حد تک کمزور ملک ہے۔

خواتین کے خلاف تشدد — ایک قومی المیہ
خواتین کے خلاف تشدد بھارت کا سب سے سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ متعدد بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق بھارت کو خواتین کے لیے دنیا کے غیر محفوظ ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔
ریپ، تیزاب پھینکنے کے واقعات، جہیز کے تنازعات میں قتل، اور غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم عام ہیں۔ سزا کی شرح نہایت کم ہونے کے باعث مجرموں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ دارالحکومت دہلی بھی خواتین کے لیے محفوظ نہیں مانی جاتی۔

دہشت گردی اور شورش

بھارت طویل عرصے سے دہشت گردی اور اندرونی بغاوتوں کا شکار ہے۔ جموں و کشمیر میں تنازع اور عسکریت پسندی کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
اس کے علاوہ نکسل باڑی (ماؤ نواز) تحریک اور شمال مشرقی علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکیں بھی اندرونی امن کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ یہ حالات بھارت کی داخلی سلامتی کو غیر یقینی بنائے رکھتے ہیں۔

مذہبی تشدد اور سیاسی انتہا پسندی

گزشتہ چند برسوں میں فرقہ وارانہ تشدد میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔ ہجوم کے ہاتھوں قتل، مذہبی نفرت اور فسادات نے بھارت کی جمہوری ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاجات اور حکومتی سخت رویے نے دنیا بھر میں بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر سوالات کھڑے کیے۔

صحت، ڈھانچے اور سلامتی کے مسائل

بھارت کی آبادی بہت زیادہ ہے جس کا بوجھ صحت اور شہری سہولتوں پر بری طرح پڑتا ہے۔ کورونا وبا کے دوران بھارت کا کمزور صحتی نظام پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا۔
ٹریفک حادثات، ناقص شہری منصوبہ بندی، اور ایمرجنسی سہولتوں کی کمی شہریوں کی روزمرہ زندگی کو خطرناک بنائے ہوئے ہے۔

ماحولیاتی اور قدرتی آفات کا خطرہ

بھارت ان ممالک میں شامل ہے جو قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ سیلاب، طوفان، زلزلے اور لینڈ سلائیڈنگ اکثر قیمتی جانیں لے جاتے ہیں۔
بے قابو شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، اور موسمیاتی تبدیلی نے ان خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

عالمی درجہ بندی اور حقائق

ہیلو سیف 2025 انڈیکس کے مطابق بھارت چوتھے نمبر پر ہے، جب کہ اس سے اوپر درج ممالک ہیں:
1. فلپائن
2. کولمبیا
3. میکسیکو
یہ درجہ بندی صرف جنگ یا عسکری تصادم پر نہیں بلکہ جرائم، صحت، دہشت گردی، صنفی سلامتی اور قدرتی آفات جیسے عوامل پر مبنی ہے۔
جب کہ گلوبل پیس انڈیکس میں بھارت 163 ممالک میں سے 116ویں نمبر پر ہے — جو اس کی معاشی طاقت کے مقابلے میں مایوس کن ہے۔

ترقی اور خطرے کا تضاد
بھارت ایک ایسا ملک ہے جو بیک وقت طاقتور بھی ہے اور غیر محفوظ بھی۔ یہ ایک ایٹمی قوت ہے، دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے، اور G20 اور BRICS جیسے عالمی فورمز پر نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
لیکن اس ترقی کے باوجود، سماجی ناانصافی، کمزور انصاف نظام، اور مذہبی انتہا پسندی نے اس کے اندر گہرے زخم چھوڑ دیے ہیں۔

خلاصہ
بھارت کو دنیا کا چوتھا خطرناک ترین ملک قرار دینا بعض حلقوں کو مبالغہ لگ سکتا ہے، مگر یہ اس ملک کے اپنے شہریوں کی روزمرہ حقیقت ہے۔
یہ خطرات جنگ کے نہیں بلکہ عدم مساوات، صنفی تشدد، کرپشن اور ناقص حکمرانی کے ہیں۔
اگر بھارت واقعی ایک محفوظ اور ترقی یافتہ ملک بننا چاہتا ہے تو اسے صرف معیشت نہیں بلکہ انصاف، شمولیت اور انسانی حقوق پر بھی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔
تب ہی بھارت اپنے خطرناک تاثر سے نکل کر ایک حقیقی پرامن اور محفوظ ریاست بن سکے گا۔

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر