ایران کا جزیرہ خرگ اتنا اہم کیوں ہے؟

Jul 08, 2026 | 19:59:PM
ایران کا جزیرہ خرگ اتنا اہم کیوں ہے؟
کیپشن:   فروری 2016 میں بنائی گئی اس فوٹو گراف میں تہران سے تقریباً 1,250 کلومیٹر (776 میل) جنوب میں خلیج  فارس کے جزیرے کھرگ پر تیل کی تنصیبات کا ایک منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب خرگ میں ایرانی تنصیبات دس سال پہلے کی نسبت بہت زیادہ پھیل چکی ہیں اور ان میں کروڈ آئل کی ہینڈلنگ کی تنصیبات کے ساتھ فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں جو زیادہ تر خلیج فارس میں سکیورٹی اور خود اس جزیرہ کی سکیورٹی سے متعلق ہیں۔ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  آج انقرہ میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں وضاحت کے ساتھ بتایا کہ وہ ایران کے جزیرہ خرگ پر قبضہ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ نے کئی بار  ایران کے جزیرہ خرگ پر ملک کے دیگر اہم شہری انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ مزید حملے کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن اس دھمکی کو اب تک عملی جامہ نہیں پہنچایا۔

آج انقرہ میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ  "ہم نے کل (منگل کی)رات جزیرہ خرگ پر حملہ کیا، ایک ٹکڑے کو نشانہ بنایا۔ میں نے کہا، 'تیل کو مت چھونا، کیونکہ شاید ہم جزیرہ خرگ پر قبضہ کر لیں گے،'" ٹرمپ کے ان الفاظ کو سی این این نے ایک رپورٹ میں کوٹ کیا۔ 

"میں نے کہا، 'پائپ  لائن کو مت تباہ کرو،  بس باقی سب کو مارو' اور انہوں نے اسے مارا۔ وہ آج رات اس پر دوبارہ حملہ سکتے ہیں۔"

سی این این نے اپنی رپورٹ مین کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکی رہنما نے کہا ہو کہ وہ جزیرے کو "ہتھیا" لینا چاہتے ہیں۔

ایران کے ساحل  سے کچھ دور  خرگ کا جزیرہ  تہران کے لیے ایک اقتصادی لائف لائن ہے۔ اس کے بارے میں یقین ہے کہ یہ جگہ عام طور پر ملک کی خام تیل کی برآمدات کےتقریباً 90 فیصد  کو ہینڈل کرتی ہے۔

مین ہٹن کے حجم کے ایک تہائی کے لگ بھگ اس جزیرے کو امریکی حکام نے "تمام ایرانی تیل کی سپلائی کا گٹھ جوڑ" قرار دیا ہے۔ اس کی لمبی جیٹیاں جزیرے کے آس پاس کے پانیوں میں جا ملتی ہیں، جو تیل کے سپر ٹینکروں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے کافی گہرے ہیں، یہ خاص خصوصیت اس چھوٹے جزیرے کو ایرانی تیل کی تقسیم کے لیے ایک اہم مقام بناتی ہے۔

سی این این نے پہلے بھی یہ اطلاع دی ہے کہ امریکہ کے حکام نے جزیرہ خرگ پر قبضہ کرنے یا اس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے کے لیے بمباری کی اجازت دینے کے اختیارات تیار کیے ہیں۔ اور انتظامیہ نے آبنائے  ہرمز کے قریب دیگر  سٹریٹیجک جزائر پر قبضہ کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا ہے جو آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو روکنے  کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:  آج رات امریکہ ایران کے بجلی پلانٹس پر حملے کرے گا، ٹرمپ نے خرگ پر قبضہ کرنے کا پلان بھی بتادیا 

CNN کی خبر کے مطابق، وائٹ ہاؤس کے حکام کا خیال ہے کہ اس جزیرے پر قبضہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) (پاسداران انقلاب) کو "مکمل طور پر دیوالیہ" کر دے گا۔

امریکہ نے اپریل میں کہا تھا کہ اس نے جزیرہ خرگ پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، اگرچہ ایک امریکی اہلکار کے مطابق، تب بھی حملوں میںخرگ کی  تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔ ایسا ہی کل رات کے محدود حملوں مین بھی کیا گیا۔

ٹرمپ نے پہلے تو یہ ہی  کہا تھا کہ خرگ ان کی  "فہرست میں  اوپر نہیں ہے۔" لیکن  یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ ٹرمپ اپنے صدر منتخب ہونے سے بہت پہلے سنہ 1988 میں ہی ایران کے اس جزیرہ پر قبضہ کر لینے کی بات کر چکے ہیں۔

یہ بھی پرھیئے:  نیٹو کی امریکا کے ایران پر حملوں کی حمایت، مارک روٹے نے کارروائی کو’’ضروری اقدام‘‘ قرار دیدیا