پاکستان کا یوکرینی صدر کے دعوے پر یوکرین سے باضابطہ وضاحت طلب کرنے کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)پاکستان نے یوکرینی صدر کے بیان پر یوکرین سے باضابطہ وضاحت طلب کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات علاقے کو کشیدگی کی طرف لے جائیں گے، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینیوں پر مظالم کے دوران اسرائیل سےرابطوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان یوکرینی صدر کی طرف سے یوکرین جنگ میں پاکستانیوں کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کرتاہے، ابھی تک یوکرینی حکام نے پاکستان سے رابطہ کرکے الزام کے متعلق کوئی بات نہیں کی، یوکرین سے متعلق کوئی قابلِ تصدیق شواہد پاکستان کو فراہم نہیں کیے گئے، پاکستان یوکرین سے باضابطہ وضاحت طلب کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں:خواجہ آصف کو بیورو کریسی سے متعلق بات نہیں کرنی چاہیئے تھی: رانا ثناءاللہ
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان وزیر خارجہ ملا امیر متقی کے دورہ پاکستان کی منسوخی یا التوا کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس حوالے سے حتمی تاریخ دونوں ممالک کے درمیان ابھی طے ہونا باقی ہے،جب تاریخ طے ہو جائے گی تو وزارت خارجہ باضابطہ اعلان کرے گی۔
ترجمان نے کہا کہ ایرانی صدر نے پاکستان کا دورہ کیا، ان کو دورے کی دعوت وزیراعظم نے دی تھی، ان کے ہمراہ وزیر خارجہ اور دیگر اعلی حکام موجود تھے، ایرانی صدر نے صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کی، آصف علی زرداری نے ایران کی خلاف اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کی۔
ترجمان نے کہا کہ ایران صدر نے 12 روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے سپورٹ پر شکریہ ادا کیا، ایرانی صدر نے وزیر اعظم سے ملاقات بھی کی، ایران پاکستان کے درمیان تجارت کو بڑھانے پر بات چیت ہوئی، بارٹر ٹریڈ میں اضافے پر بھی بات چیت کی گئی، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی ایرانی صدر سے ملاقات کی۔
پاک ایران گیس پائپ لائن پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن پر دونوں ممالک رابطے میں ہیں، دونوں ممالک کی ٹیکنیکل ٹیمز رابطے میں ہیں، اس معاملے پر جیسے ہی کوئی پیش رفت ہوگی آگاہ کردیا جائے گا، پاکستان اور ایران کے درمیان اچھے اور گہرے تعلقات ہیں۔
مزید پڑھیں:راجہ بشارت کی 3 اور صنم جاوید کی 2 مقدمات میں عبوری ضمانتیں خارج
ترجمان نے بتایا ہے کہ آج غزہ کے لیے پاکستان نے 18 ویں امدادی کھیپ روانہ کر دی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی نے کہا کہ ہم امریکا کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے لیے اظہار دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہم امریکا کے علاوہ بھی دیگر ممالک کی جانب سے اس قسم کے اظہار دلچسپی کا خیرمقدم کریں گے، مقبوضہ کشمیر میں کتابوں کو ضبط کرنا اور کتابوں کی دکانوں پر چھاپے افسوسناک ہیں، بھارت کشمیر کی تاریخ پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان ناظم الامور کا اپ گریڈیشن باہمی معاہدے کے تحت کیا گیا، معاہدے کے باعث ہم نے اس حوالے سے سفارتی اسناد کی طلبی کو ضروری نہیں سمجھا۔
اسرائیل کے معاملے پر انہوں ںے کہا کہ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے، ہمارے شہری ہمارے پاسپورٹ پر اسرائیل کا دورہ نہیں کر سکتے، بابائے قوم محمد علی جناح نے بھی اس حوالے سے واضح پالیسی جاری کی تھی۔