آو جاپان چلیں(نویں قسط )
حافظ شہباز علی
Stay tuned with 24 News HD Android App
جیولن تھرو فائنل اور دیگر ایونٹس کے بعد ٹوکیو نیشنل سٹیڈیم سے نکل کر میں نے سندا گایا کا رخ کیا ،سندا گایا کااسٹیشن اور ارد گرد کے علاقے انتہائی پررونق ہیں۔
ٹوکیو شہر کی بہت سی بلند و بالا عمارتیں سندا گایا کے ارد گرد واقع ہیں یہاں ایک حیران کن واقع پیش آیا جس سے ہمیں جاپانیوں کی تہذیب و تمدن سے مزید آگاہی ملے گی ،ہوا کچھ یوں کہ روڈ کراس کرنے کا سگنل بند ہوا تو میرے آگے چلنے والی فیملی کے ساتھ ان کا کتا بھی تھا جوں ہی سگنل ریڈ ہوا عام لوگوں کے ساتھ وہ کتا بھی کھڑا ہوگیا اور جب تک سگنل بند رہا اس کتے نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی یہاں سے ہم جاپانیوں کی قانون اور قواعد وضوابط پر عمل درآمد کی تربیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں،خیر سنداگایا سے گھومتا گھماتا میں روپنگی جا پہنچا ۔
روپنگی ٹوکیو کے عین وسط میں انتہائی پررونق علاقہ ہے اس علاقے میں جہاں آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں تو ہیں اس کے علاوہ یہاں کی نائٹ لائف کی مثالیں دنیا دیتی ہے، دنیا بھر کے سیاح نائٹ لائف انجوائے کرنے کے لیے روپنگی کا ہی رخ کرتے ہیں،روپنگی کی سڑکوں کے ارد گرد نائٹ کلبز ہی نائٹ کلبز ہیں،اس علاقے کی چکا چوند دیکھ کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں،روپنگی کی روشنیوں کے نظارے کے بعد میں دوبارہ سندا گایا کا رخ کیا،ابھی میں روپنگی ہی میں گھوم رہا تھا تیز بارش اور ہوا نے موسم کو اور خوشگوار کردیاجس وقت بارش شروع ہوئی تو یک دم جاپانی باشندوں نے چھتریاں نکال لیں اور روڈ پر چھتریوں کی بھرمار ہوگئی یوں لگا جیسے آج ان جاپانیوں کو آج گھر سے نکلنے سے پہلے کسی نے بتا دیا تھا کہ آج تیز بارش ہوگی، بہر حال بعد ازاں میرے علم میں آیا کہ جاپان میں جب بھی بارش آتی ہے تو خاصی موسلا دھار ہوتی ہے۔
اس لیے جاپانی لوگ چھتریاں اپنے ساتھ رکھتے ہیں، روپنگی سے واپس سندا گایا کا رخ کیا اور تقریبا 30 منٹ سے زائد کی واک کے بعد میں سندا گایا پہنچ گیا اب مجھے سندا گایا سٹیشن سے آکھی عبارہ جانا تھا ، یہ میرے ٹوکیو میں آخری ٹرین کے سفر کی ابتدا تھی سندا گایا سے میں آکھی عبارہ پہنچا اور آکھی عبارہ سکوبا لائن کی سیمی ریپڈ ٹرین لے کر میں میڈورینو سٹیشن پہنچا تو پچھلے ایک ہفتے کی طرح اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب اور عبد الرحمن میرے منتظر تھے، میں جوں ہی میڈورینو اسٹیشن سے باہر آیا تو سب سے اشفاق الرحمن صاحب نے ارشد ندیم کی ناکامی پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ آج جاپان میں مقیم پاکستانی باشندے ارشد کی ناکامی پر بہت افسردہ ہیں ۔
سارا راستہ ارشد ندیم کے حوالے سے گفتگو کا سلسلہ جاری رہا ہے اس دوران عابد حسین ڈار صاحب اور یوسف مغل کے علاوہ جاپان میں مقیم ایک دو اور دوستوں سے بھی ارشد ندیم کے حوالے سے گفتگو ہوئی تاہم افسردگی کا ماحول برقرار تھا، بہر حال ہم لوگ گھر پہنچے تو آج مٹن اور چاول ڈنر میں ہمارے منتظر تھے میں نے کھانا کھانے کے بعد اپنی پیکنگ کا سلسلہ شروع کیا،یہاں بتاتا چلوں کہ ایشین اتھلیٹکس فیڈریشن کے نائب صدر میجر جنرل (ر) محمد اکرم ساہی اور میں نے اپنی واپسی کے ٹکٹ ارشد ندیم کی واپسی کے ساتھ ہی بک کروائے تھے ہمارا خیال اور سوچ یہ تھی کہ ارشد ندیم ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں میڈل جیت کر واپس آئیں گے تو ہم ان کے ساتھ پورے سفر میں ہوں گے لیکن قدرت جو کچھ اور منظور تھا ۔
ایک لمحے کے لئے میں نے سوچا کہ میں کوشش کرکے اپنا ٹکٹ تین چار روز آگے کروا لوں پھر میں نے سوچا کہ نہیں مجھے صبح اپنے شیڈول کے مطابق ارشد ندیم کے ساتھ ہی واپس جانا ہے،پیکنگ کے دوران بھی مجھے پاکستان سے بہت سے دوستوں کی کالز آئیں کہ ارشد ندیم کی کارکردگی کی کیا وجوہات بنیں اسی دوران ارشدندیم کے بھائی شاہد ندیم کی بھی کال آئی ان سے بھی اسی موضوع پر بات ہوئی بہرکیف میں نے شاہد ندیم اور باقی دوستوں کو یہی بات باور کروانے کی کوشش کی کہ ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے اور ہمیں اس وقت ارشد ندیم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔
(جاری ہے)