آو جاپان چلیں (آٹھویں قسط )
حافظ شہباز علی hafee23@gmail.com
Stay tuned with 24 News HD Android App
جیولن تھرو فائنل کے چوتھے راؤنڈ میں اولمپکس گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم کے مقابلے سے باہر ہوجانے کے بعد ایک پاکستانی کے طور پر تو میری جیولن تھرو مقابلے بظاہر دلچسپی ختم ہوگئی تاہم ایک صحافی اور اتھلیٹکس سے میری دلچسپی اور شوق کے باعث میری اس مقابلے میں توجہ اس لیے برقرار تھی کہ ارشد ندیم کے بعد میرے دو پسندیدہ جیولن تھرورز اینڈریسن پیٹرس اور کیشرون والکوٹ میڈل کی ڈور میں شریک تھے ان کے ساتھ ساتھ دو مزیڈ ساؤتھ ایشین تھروروز سچن یادیو اور رمیش تھرنگا بھی اس دوڑ میں شامل تھے ۔اگر سچن یادیو کی بات کی جائے تو یہ نوجوان اتھلیٹ ارشد ندیم کی طرح لمبا چوڑا خوبصورت جوان ہے اور اس کی فلیکسبیلٹی اور اجلیٹی بھی کمال ہے ۔ سچن یادیو کا اعتماد دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس نوجوان کا مستقبل روشن ہے۔

ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کے مقابلے سے باہر ہونے کے بعد جولین ویبر، کیشرون والکوٹ ، اینڈرسن پیٹرس کو پہلی تین پوزیشنز کے لیے فیورٹ سمجھا جارہا تھا۔اینڈریسن پیٹرس نے چوتھے راؤنڈ میں برتری حاصل کی اور پھر کیشرون والکوٹ نے حیران کن طور پر پانچویں راؤنڈ میں 88.16 میٹر تھرو کرکے برتری حاصل کی جو کہ آخر تک برقرار رہی ، اینڈری سن پیٹرس نے 87.38 میٹر تھرو کے ساتھ دوسری اور امریکا کے تھامسن نے حیران کن طور پر تیسری پوزیشن اپنے نام کی ہے۔2012 کے اولمپکس چیمپئن کیشرون والکوٹ اپنے کیرئیر میں آخری مرتبہ ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں شرکت کررہے تھے اور انہوں نے اپنے یاد گار کیریئر کا اختتام ورلڈ چیمپئن کے طور پر کیا جوکہ کسی بھی اتھلیٹ کی زندگی کا ایک بڑا خواب ہوتا ہے ۔ اسی روز خواتین کے ڈسکس تھرو مقابلوں میں امریکا کے ولاری المین velarie ALLMAN نے 69.48 میٹر تھرو کرکے عالمی چیمپئن شپ جیتی تو نیدر لینڈ کی جوریڈی وین کلینکن Jorinde VAN KLINKEN نے 67.50 میٹر تھرو کے ساتھ دوسری اور کیوبا کی سلینڈامورالیس Silinda MORALES نے تیسری پوزیشن اپنے نام کی ۔
ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل کے بعد گفتگو میں کیشرون والکوٹ کا کہنا تھا کہ 2012 اولمپکس کے بعد ورلڈ چیمپئن شپ جیتنے سے میرا کیرئیر مکمل ہوگیا ہے ۔ 2012 کے 13 سال بعد عالمی سطح کا ایونٹ جیتنا بہت اہم ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ سیزن میں ڈائمنڈ لیگ میں بھی عمدہ کارکردگی دکھائی ہے جس کے بعد مجھے یقین تھا کہ میں ورلڈ چیمپئن شپ میں عمدہ کارکردگی دکھاؤں گا ۔ نیرج چوپڑا اور ارشد ندیم کے چیمپئن شپ سے باہر ہونے کے بعد مجھے یقین ہوگیا تھا کہ اب میں کامیابی حاصل کرسکتا ہوں اینڈری سن پیٹرس اور جیولن ویبر نے اچھا مقابلہ کیا ہے کیرئیر کے اختتام پر ورلڈ چیمپئن شپ جیسا بڑا اعزاز جیتنے سے کسی بھی اتھلیٹ کا کیرئیر یاد گار ہوجاتا ہے۔ کیشرون والکوٹ کی کامیابی کی بڑی وجہ ان کے کوچ تبدیلی کو بھی بتایا جارہا ہے بڈا پسٹ ہنگری اور پھر پیرس اولمپکس تک نیرج چوپڑا کے کوچ کلاز اس سیزن سے قبل کیشرون والکوٹ سے منسلک ہوگئے تھے اور والکوٹ نے کلاز کی زیر نگرانی گولڈ میڈل جیتا دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ بطور کوچ کلاز نے مسلسل دو گولڈ میڈل جیتے ہیں۔
دفاعی چیمپئن نیرج چوپڑا نے میڈیا زون میں گفتگو کی اور ان سے گفتگو کرکے اندازہ ہوا کہ نیرج ایک انتہائی پروفیشنل اتھلیٹ ہیں انہوں نے سب سے پہلے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انٹر نیشنل کیرئیر میں یہ پہلا موقع ہے کہ مجھے اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے تاہم یہ ایک نیا تجربہ ہے اور اس سیکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کروں گا،، جیولن تھرو کے عالمی ایونٹس میں طویل عرصے بعد ساؤتھ ایشین اتھلیٹس کے ٹاپ تھری میں نہ ہونے کے حوالے سے نیرج چوپڑا کا کہنا تھاکہ یہ کھیل میں چلتا رہتا ہے مگر ہمیں اس سے سیکھنا ہے اور کم بیک کرنا ہے ہمارے پاس ابھی وقت ہے لیکن اچھا کھلاڑی وہی ہوتا ہے جو غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھے ۔ سلور میڈلسٹ اینڈرسن پیٹرس کا کہنا تھا کہ انہیں گولڈ میڈل نہ جیت سکنے کا افسوس ہے مگر ان کو کیشرون والکوٹ کے گولڈ میڈل جیتنے کی خوشی ہے کیونکہ والکوٹ پچھلے طویل عرصے سے سخت محنت کررہے ہیں اور اپنے کیریئر کے اختتام پر انہوں نے ورلڈ چیمپئن شپ جیتی ہے ۔ پیٹرسن کاکہنا تھا کہ تین چار ایونٹس میں گولڈ میڈل کے قریب پہنچ کر جیت نہ سکنے کا افسوس ضرور ہے مگر ان کے لیے اطمینان کی بات یہ ہے کہ وہ مسلسل پوڈیم پر موجود ہیں۔
اینڈرسن پیٹرس کی گفتگو کے دوران ہی اولمپکس گولڈ میڈلسٹ ارشد ندیم میڈیا زون میں آئے مگر کسی سے بات کیے بغیر دوسرے لفظوں میں یوں کہیے کہ بغیر رکے وہاں سے نکل گئے حالانکہ انٹر نیشنل میڈیا کے نمائندے نیرج چوپڑا کی طرح ارشد ندیم سے بھی گفتگو کرنے کے خواہش مند تھے مگر ارشد تیزی سے وہاں سے نکل گئے تاہم ایونٹ کے چند گھنٹے انہوں نے ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں اپنی ناکامی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک لیٹر کے ذریعے اپنا بیان جاری کیا جس میں انہوں نے چار جولائی 2025 کو ہونے والی اپنی انجری کو اپنی ناکامی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے بھرپور سپورٹ کرنے پر قوم کا شکریہ ادا کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ارشد ندیم نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ جلد کم بیک کرتے ہوئے کامیابی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔
ارشد ندیم نے تو اپنی کارکردگی وضاحت دے دی مگر ان کے کوچ سلمان بٹ جو کہ پیرس اولمپکس کے بعد سے خود سے پاکستان سپورٹس بورڈ کی معاونت سے ارشد ندیم کے معاملات دیکھ رہے تھے نے تاحال کوئی وضاحت نہیں دی کیوں کہ یہ معاملہ ایک اتھلیٹ کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ کا نہیں بلکہ قومی عزت و وقار کا ہے ۔ جیسے ہم پیچھے بات کرچکے ہیں کہ دنیا بھر کے اتھلیٹس کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ آنا معمول کی بات ہے مگر وہ اتار چڑھاؤ دو چار میٹرز کا تو ہوسکتا ہے مگر دس میٹرز کا نہیں اس معاملے پر مزید حقائق آگے بیان کریں گے ۔ بہر حال ارشد ندیم کی اس کارکردگی کے بعد جب میرا ایشین اتھلیٹکس فیڈریشن کے نائب صدر اور ارشد ندیم کو پیرس اولمپکس تک کی کامیابیوں کی منزل تک پہنچانے والے میجر جنرل (ر) محمد اکرم ساہی سے آمنا سامنا ہوا تو وہ ارشد کی اس کارکردگی پر انتہائی افسردہ تھے اور ان کے آنکھوں میں آنسو تھے انہوں اس وقت میڈیا کے نمائندوں سے جو گفتگو کی وہ اس بات کی عکاس تھی کی ان کو ارشد ندیم کی ناکامی پر کس قدر دکھ ہے ۔ محض 13 مہینے اور دس روز قبل 8 اگست 2024 کو ارشد ندیم پیرس اولمپکس کا گولڈ میڈل جیت کر پاکستانی پرچم تھامے ڈی پیرس اسٹیڈیم میں جنرل ساہی کے گلے لگ کر خوشی سے آبدیدہ تھے اور آج ارشد ندیم بھی اپنی کارکردگی پر افسردہ تھے تو جنرل ساہی کی آنکھیں بھی نم تھیں۔
صدر اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان بریگیڈیئر (ر) وجاہت حسین ساہی بھی ارشد ندیم کی کارکردگی پر افسردہ اور حیران تھے تاہم بریگیڈیئر ساہی گزشتہ سات آٹھ ماہ سے بارہا اپنے انٹرویوز اور ارباب اختیار تک ارشد ندیم کے معاملے پر اپنے تحفظات ظاہر کررہے تھے ۔انٹر نیشنل میڈیا کے نمائندے ارشد ندیم کی کوچنگ ان کے ٹریننگ پلان اور دیگر معاملات پر بات کررہے تھے جس کا جواب تو سلمان اقبال بٹ کو دینا چاہیے تھا مگر اپنے تئیں ہم نے اس معاملے پر انٹر نیشنل میڈیا کے نمائندوں کو جو ہوسکتا تھا وہ وضاحت دی ۔
جیولن تھرو ایونٹ کے بعد جب اسٹیڈیم سے نکلے توجاپان میں مقیم پاکستانیوں سے بات ہوئی تو وہ بھی ارشد ندیم کی کارکردگی پر خاصے مایوس تھے پہلے بھی بات کرچکے ہیں کہ جاپان میں مقیم پاکستانی وہاں اپنے ملک کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بھی بہت پرجوش انداز میں انجوائے کرتے ہیں اور اس روز جاپان میں مقیم پاکستانی باشندوں کو بھی یقین تھا کہ ارشد ندیم ضرور کوئی بڑی کارکردگی دکھائیں گے ۔ یہاں بتاتے چلیں کہ ارشد ندیم کے بھائی شاہد ندیم ارشد ندیم کے کوالیفائنگ راؤنڈ پر اور پھر فائنل کے دن بھی مسلسل رابطے میں رہے اور وہ ارشد ندیم کی تھروز کے بارے میں معلومات لیتے رہے اور ان کی کارکردگی پر فکر مند تھے۔ کوالیفائنگ راؤنڈ میں جس وقت ارشد ندیم کی پہلی تھروز اتنی اچھی نہ ہوسکیں تو وہ خاصے پریشان تھے ایک بھائی کے لیے دوسرے بھائی کی پریشانی دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی کہ بھائی اپنے بھائی کی کامیابی کے لئے کس قدر فکر مند ہیں شاہد ندیم نے ارشد ندیم کے اس سفرمیں ان کا بہت ساتھ دیا ہے جس وقت ارشد نے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا تو شاید ندیم کی فون پر بات کرتے ہوئے آواز بھر آئی تھی۔ پاکستانی باشندوں کی طرح میں خود بھی ارشد ندیم کی اس کارکردگی پر خاصا افسردہ تھا ۔ اس افسردگی میں ٹوکیو میں قیام کا آخری روز ہونے کے سبب میں نے کچھ گھومنے پھرنے کا فیصلہ کیا اور ٹوکیو اسٹیڈیم سے باہر نکل کر کوئی پر رونق جگہ تلاش کرنا شروع کی ۔
(جاری ہے )