ٹرانسپورٹروں نے انٹر سٹی کرائے میں من مانا اضافہ کر لیا

Mar 07, 2026 | 20:24:PM
 ٹرانسپورٹروں نے انٹر سٹی کرائے میں من مانا اضافہ کر لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھنے کے فوراً بعد ہی ٹرانسپورٹروں نے کرائے میں من مانا اضافہ کر لیا۔

جنرل بس اسٹینڈ بادامی باغ سے  پنجاب، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے شہروں کو جانے والی بسوں کے کرایوں میں من مانا اضافہ کر لیا ہے۔

ٹرانسپورٹروں  نے کرایوں میں بے تحاشا اضافہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے نام پر کیا ہے لیکن اضافے کا ڈیزل کی لاگت میں اضافہ کے ساتھ کوئی تناسب نہیں۔  عوام کو ایک طرف تو پٹرول، ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ذاتی ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور عمومی مہنگائی  کی سزا ملی ،اس پر ٹرانسپورٹروں نے عوام کو مزید سزا دے ڈالی۔ پٹرول ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹروں کے منافعے میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا۔ 

ٹرانسپورٹروں نے جو کرائے بڑھائے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے:

لاہور سے اسلام آباد اے سی بس کا کرایہ 1850 سے 2050 روپے کر دیا۔ 

لاہور سے فیصل آباد اے سی بس کا کرایہ 850 سے بڑھ کر 1050 روپے کر دیا۔ 

لاہور سے مانسہرہ کرایہ 2400 سے بڑھ کر 2700 کر دیا۔ 

لاہور سے سوات اے سی بس کا کرایہ 2400 سے بڑھ کر 2600 کر دیا۔ 

لاہور سے ملتان اے سی بس کا کرایہ 1500 سے بڑھ کر 1700 کر دیا۔ 

لاہور سے پشاور اے سی بس کا کرایہ 2000 سے بڑھ کر 2200 کر دیا۔

لاہور سے کروڑ لیہ اے سی بس کا کرایہ 1800 سے بڑھ کر 2000 کر دیا۔

لاہور سے ڈیڑہ اسماعیل خان اے سی بس کا کرایہ 2300 سے بڑھ کر 2500 کر دیا۔ 

لاہور سے بنوں اے سی بس کا کرایہ 2200 سے بڑھ کر 2400 کر دیا۔ 

لاہور سے بہاولپور اے سی بس کرایہ 1800 سے بڑھ کر 2000 کر دیا۔

 لاہور سے کوئٹہ اے سی بس کرایہ 3500 سے بڑھ کر 4000 کر دیا۔