میاں محمد اشرف عاصمی کی نئی کتاب ’’دل درویش‘‘شائع،ادبی حلقوں میں پذیرائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز) ممتاز قانون دان، معروف کالم نگار، مصنف اور دانشور صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی کی نئی تصنیف’’دل درویش‘‘ منظرِ عام پر آ گئی ہے، جسے علمی، ادبی اور فکری حلقوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ ناقدین اور اہلِ علم نے اس کتاب کو روحانیت، خود شناسی اور فکری بیداری کے موضوعات پر ایک اہم ادبی اضافہ قرار دیا ہے۔
مصنف کے مطابق "دل درویش" محض ایک کتاب نہیں بلکہ انسان کے باطن، اس کی حقیقت اور روحانی آگہی کی جستجو پر مبنی ایک فکری سفر ہے۔ کتاب میں زندگی کے مشاہدات، تجربات اور فکری واردات کو نہایت دلنشیں اور مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
کتاب کے ابتدائی کلمات میں صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی لکھتے ہیں کہ ’’دل درویش‘‘ انسان اور اس کے باطن کے درمیان ہونے والے ایک خاموش مکالمے کی داستان ہے، جو اسے اپنی ذات کی پہچان اور اپنے رب کی معرفت کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔ ان کے مطابق درویشی کسی ظاہری وضع قطع یا دعوے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی کیفیت ہے جو انسان کو انا، غرور اور نفسانی خواہشات سے آزاد کرکے حقیقت کے قریب لے جاتی ہے۔
کتاب میں محبت، سچائی، خاموشی، معرفت، خود احتسابی اور روحانی سکون جیسے موضوعات کو گہرے فکری اور ادبی پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان دنیا کو جاننے کی کوشش میں اکثر اپنی ذات سے غافل رہ جاتا ہے، حالانکہ اصل کامیابی اپنے اندر پوشیدہ حقیقت کی دریافت میں مضمر ہے۔
ادبی و فکری حلقوں کا کہنا ہے کہ’’دل درویش‘‘ موجودہ دور کی مادیت، ذہنی انتشار اور بے چینی کے ماحول میں تدبر، سکون اور خود شناسی کا پیغام دیتی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ کتاب نہ صرف روحانی موضوعات سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے مفید ہے بلکہ عام قاری کو بھی زندگی کے گہرے حقائق پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔
ملک بھر کے وکلا، صحافیوں، ادیبوں، دانشوروں اور اہلِ قلم نے صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی کو اس ادبی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ’’دل درویش‘‘ قارئین میں مقبولیت حاصل کرے گی اور فکری و روحانی شعور کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
اہلِ علم کے مطابق یہ تصنیف مصنف کی فکری پختگی، وسیع مطالعے اور روحانی بصیرت کی عکاس ہے اور اردو ادب میں اپنی منفرد شناخت قائم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :گلگت بلتستان میں پولنگ کا وقت ختم،ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع