فرانس کی صدارتی امیدوار الیکٹرانک کڑا پہن کر گھر سے الیکشن لڑ سکتی ہں تو لڑ لیں، پیرس کی عدالت کا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) فرانس کی ایک عدالت نے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان خاتون لی پین کے ٹخنے میں پڑے نگران کڑے کے ساتھ 2027 میں انتخاب لڑنے کا راستہ صاف کر دیا۔
منگل کو ایک فرانسیسی اپیل عدالت نے یورپی یونین کے فنڈز میں غبن کرنے کے مقدمہ میں میرین لی پین کی سزا کو برقرار رکھا لیکن عوامی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے پر ان پر عائد پابندی کو مختصر کر دیا۔ اس پابندی کو مختصر کر دیئے جانے سے انتہائی دائیں بازو کی اس خاتون رہنما کے لیے 2027 کے فرانس کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا راستہ کھل گیا ہے۔
عدالت نے لی پین کو تین سال قید کی سزا بھی سنائی: دو سال معطل اور ایک سال ٹخنے میں پہنے الیکٹرانک ٹیگ کے ساتھ۔
لی پین کو آج سات جولائی کو رات 8 بجے ( پاکستان مین رات 11بجے) ایک پرائم ٹائم ٹی وی انٹرویو دینے والی ہیں، جس میں وہ اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں اعلان کر سکتی ہیں۔
فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لی پین، ریسمبلمنٹ نیشنل (نیشنل ریلی - آر این) پارٹی کی رکن پارلیمنٹ، آر این پارٹی کے ساتھ، اپنی اپیل کے مقدمے میں فیصلے میں شرکت کے لیے پہنچی
فرانس کی نیوز آؤٹ لیٹ France 24ٖ نے رپورٹ کیا ہے کہ پیرس کی ایک اپیل کورٹ نے منگل کو انتہائی دائیں بازو کی مقبول رہنما میرین لی پین کے لیے ممکنہ طور پر اگلے سال فرانس کی صدارت کے لیے انتخاب لڑنے کا راستہ صاف کر دیا ہے لیکنعدالت نے یہ پابندی برقرار رکھی کہ انھیں الیکٹرانک بریسلٹ پہننا پڑے گا۔ جس کے بارے میں خاتون سیاستدان نے کہا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہیے۔
فیصلے میں لی پین کو غبن کا مجرم قرار دیا گیا لیکن گیند ان کے کورٹ میں ڈالتے ہوئے ان کے منتخب عہدے پر فائز رہنے پر پابندی کو نرم کر دیا۔
لی پین کو اب خود یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا ان کے لئے 2027 میں مانیٹرنگ بریسلٹ کے ساتھ انتخابی مہم چلان عملاً ممکن ہو گا؟ یہ مونیٹرنگ بریسلیٹ ان کی نرم کی ہوئی سزا کے حصے کے طور پر ان کی پاؤں میں ڈالا جائے گا جس کا عملی مقصد ان کی گھر پر قید کی سزا پر عمل کروانا ہے۔ جیل کی بجئاے گھر پر قید کی سزا کاٹنا ایک طرح کی رعایت ہے جو انہیں عدالت نے دے دی ہے۔
نیوز آؤٹ لیٹ فرانس 24 نے لکھا کہ یہ فیصلہ لی پین کی جزوی فتح معلوم ہوتا ہے۔
آج پیرس کی عدالت کا نرم فیصلہ سامنے آنے سے پہلے یہ قیاد آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ کیا میرین لی پین کی اپیل کا فیصلہ اس انتہائی دائیں بازو کی رہنما کو فرانس کی صدارت کے الیکشن سے روک دیا گا؟
اس فیصلےنے لی پین کے دوبارہ عوامی عہدہ پر کام کرنے پر عائد پابندی کی مدت کو اس طرح کم کیا کہ اب وہ صدارتی الیکشن میں حسہ لینا چاہیں تو لے سکتی ہیں لیکن بہرحال الیکٹرانک نگرانی کے کڑے کے ساتھ!
میرین لی پین کو پچھلے سال دی گئی نا اہلی کی سزا پانچ سال س تھی اب اسے ے کم کر کے 45 ماہ کر دیا گیا، جن میں سے دو تہائی معطل ہیں۔
اس اپیل کورٹ نے لی پین کی قید کی سزا کو بھی چار سال سے کم کر کے تین سال کر دیا، جن میں سے دو معطل ہیں۔
پھر بھی، جیل کا بقیہ سال، الیکٹرانک کڑے کے ساتھ گھر پر گزارا جائے، لی پین کی ممکنہ صدارتی مہم میں ایک ممکنہ رکاوٹ ہے اور یہ فوری طور پر واضح نہیں ہے کہ کیا انہیں لگتا ہے کہ وہ اس (ذلت آمیز) شرط کے ساتھ صدارتی الیکشن کی مہم چلا سکتی ہیں یا نہیں۔
57 سالہ لی پین نے شام کے ٹیلی ویژن انٹرویو میں منگل کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
میرین لی پین نے کیا غبن کیا تھا؟
انہوں نے مارچ 2025 کی سزا کی اپیل کی تھی جس میں انہیں اور ان کی نیشنل ریلی پارٹی کے دیگر ارکان کو 2004 اور 2016 کے درمیان اپنی پارٹی کے سٹاف کو وہ رقوم ادا کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا جو رقوم درحقیقت یورپی پارلیمنٹ کے معاون سٹاف کے لئے مختص تھیں اور ان کی پارٹی کا سٹاف یورپی پارلیمنٹ کا معاون سٹاف نہیں تھا۔
انہیں واضح طور پر یورپی پارلیمنٹ کے فنڈز کا غلط استعمال کرنے کا قصوروار پایا گیا تھا۔
زیریں عدالت نے میرین لی پین کو قید کی سزا سنائی، اپیل کورٹ نے زیر التوا فیصلے کو معطل کر دیا، اور منتخب عہدے پر فائز رہنے پر پانچ سال کی پابندی لگا دی۔
لی پین نے عدالت سے مجرم قرار پا چکنے کے بعد بھی کسی "غلط کام" میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور وہ اب بھی صدارت کے لیے چوتھی مرتبہ کوشش کرنے کی امید کر رہی ہیں۔
تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ الیکٹرانک بریسلیٹ کی ذلت کے ساتھ صدارتی الیکشن کی کیمپین میں نہ جانے کا فیصلہ کرتی ہیں تو ان کا پروٹیج (سیاست میں آلہ کار/شاگرد)اردن بارڈیلا ان کی جگہ لے گا۔ جورڈن بارڈیلا، 30 سال کے نوجوان سیاست دان ہیں جو لی پین کی طرح سخت امیگریشن مخالف، EU کی پالیسیوں پر سوالات کرنے والی شخصیت ہیں۔ وہ اس وقت لی پین کی پارٹی نیشنل ریلی پارٹی کی صدر ہیں۔
پیرس کورٹ کے فیصلے سے پہلے، لی پین نے کہا تھا کہ اگر عدالت ایسی رکاوٹیں عائد کرتی ہے جو انتخابی مہم کو مشکل بناتی ہیں، تو وہ انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ اس میں الیکٹرانک نگرانی شامل ہو سکتی ہے، لی پین نے کہا تھا۔
"اگر مجھے امیدوار بننے کی اجازت ہے لیکن مجھے آزادانہ طور پر انتخابی مہم چلانے سے روک دیا گیا ہے، تو آپ سمجھیں گے کہ یہ ممکن نہیں ہوگا،" لی پین نے گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو میں کہا تھا۔
استغاثہ نے اپیل کورٹ سے کہا تھا کہ وہ لی پین کو چار سال قید کی سزا سنائے، جس میں تین معطل کیے گئے ہو سکتے ہیں لیکن ان کے پانچ سال تک منتخب عہدہ رکھنے پر پابندی کبہرحال برقرار رکھی جائے۔
لی پین خود صدارتی الیکشن لڑتی ہیں یا ان کی جگہ ان کا بالکا جورڈن بارڈیلا صدارتی الیکشن لڑتا ہے، اس کا اعلان لی پین آج ہی رات کر دیں گی۔ اس سے فرانس کی سیاست میں 2027 کے صدارتی الیکشن میں دلچسپی رکھنے والی دوسری اہم شخصیات پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیئے: خیبرپختونخوا، پنجاب، بلوچستان، کشمیر، گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کی پیشگوئی