پاک فوج ملک کو دہشتگردی سے پاک کرنے میں کامیاب ہوگی:سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)معروف تجزیہ کار سلیم بخاری نے کہا ہے کہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے عزم سے لگتا ہے کہ پاک سرزمین ایک دن دہشتگردی سے پاک ہو جائے گی۔
24 نیوز کے مقبول پروگرام ’’ دی سلیم بخاری شو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم بخاری نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر بڑی تفصیل کے ساتھ ایک طویل پریس کانفرنس میں اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کیسے ہم نے بھارت سے جنگ جیتی ہے اور دہشتگردی اور فتنہ الخوارج کے خلاف بھی ہم کیسے اس جنگ میں مصروف ہیں اور انشااللہ ہم یہ جنگ بھی جیتیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جو مستقل مزاجی اور جزبہ سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ پاک فوج ان دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے میں مصروف ہے، ایک دن پاک سرزمین کو اس سے نجات دلانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو ویڈیو اور نقشے کی مدد سے جو ثبوت پیش کیے ہیں اس سے یہ یقین ہو گیا ہے کہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ اگر ہماری سیاسی حکومتوں نے پاک فوج کا ساتھ دیا ہوتا تو ہم ترقی کی منازل طے کرچکے ہوتے۔منافقت کس کی تھی قصور کس کا تھا اس کو تو چھوڑیں لیکن ایک صوبے نے تو تمام حدیں کراس کرلیں ہیں۔
اس صوبے کی عوام کی بدقسمتی ہے کہ اس صوبے کو اس جیسا وزیراعلیٰ ملا جو آج بھی یہ کہتا ہے کہ ہم فوجی آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔ ان کو تو یہ بھی ادراک نہیں ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی اور سالمیت کے معاملہ جات تو وفاقی حکومت کا سجبجکٹ ہے اور پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن ہے ۔ پی ٹی آئی کون ہوتی ہے جو یہ کہے کہ وہ اپریشن نہیں ہونے دینگے۔جبکہ اپریشن تو جاری ہے۔کیا انکو اس بات کا بھی نہیں پتہ کیسی بے خبر حکومت ہے۔
معروف تجزیہ کار کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیاسی جماعتیں اور سکیورٹی فورسز کا ایک ہی بیانیہ ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بیانیے سے کوئی ہمیں ٹس سے مس نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا وزیراعلیٰ فرما رہے ہیں کہ افغانستان ہماری مدد کرے، یہ فرما رہے ہیں کہ کابل ہماری سکیورٹی گارنٹی کرے، یہ کونسی تسکین کی پالیسی ہے کہ آپ افغانستان سے کہتے ہو ہماری مدد کریں، وزیراعلیٰ کے پی ایک بڑی عجیب بات کر رہے ہیں ، کے پی کے وزیراعلیٰ کا بیانیہ بھی کھل کر سامنے آگیا ہے، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا توپھر کیا کے پی کی عوام کو دہشتگردوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا جائے۔
علیمہ خان کے اسے بیان پر ہمارا ٹارگٹ یہ ہے کہ دس ہزار بندہ آکر اڈیالہ جیل کے باہر بیٹھ جائے پھر دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے اٹھاتے ہیں ہمیں یہاں سے، اس پر بخاری صاحب نے پانی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف والے قابل رحم لوگ ہیں ان کی کسی بات کو سیریس نہیں لینا چاہیے۔اس لیے کہ جو کے پی میں دس ہزار بندے جلسے میں اکٹھے نہیں کر سکتے، وہ اڈیالہ کیسے لا سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ وہ باتیں ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے کیوں کہ بانی تو کہتے ہیں کہ میں عدالتوں سے انصاف لوں گا اور یہ نعرے لگا رہے ہیں کہ ہم انکو آزاد کرائیں گے جائیں تو جائیں کہا ں انکی کسی بات کی سمجھ نہیں اتی انکو کسی نے دس ہزار بندہ جیل کے باہر نہیں اکٹھا کرنے دینا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بینچ نے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات کا طریقہ کار طے کیا، طریقہ کار طے کیا کہ ملاقات کے بعد سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی، ملاقات کے بعد ہلہ گلہ کا ماحول ہوتا ہے، پریس کانفرنس ہوتی ہے، لڑائیاں بھی ہوتی ہیں۔
مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتی، وزیراعظم نے مذاکرات کی دعوت دی تو کہا گیا ان کے پاس اختیار ہی نہیں، وزیراعظم نےاسٹیبلشمنٹ اور اپنے لیڈر نواز شریف کو اعتماد میں لے کر مذاکرات کی آفرکی ہے، آپ قبول کریں۔لیکن سلمان اکرم راجہ اپنے چیئرمین بیرسٹر گوہر کو ہی تسلیم نہیں کرتے تو مذاکرات کا مستقبل کیا ہوگا، جو پارٹی لیڈران اپنے چیئر مین کو ہی تسلیم نہیں کرتی جس کو بانی نے خود چئیرمین بنا یا تھا۔ اس سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تحریک انصاف مذاکرات کرنا ہی نہیں چاہتی۔
یہ بھی پڑھیں :پختونخوا میں دہشتگردی کیلئے سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر