ٹرمپ کا اوباما خاندان کے خلاف نسل پرستانہ پوسٹ پر معافی سے انکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کے خلاف نسل پرستانہ سوشل میڈیا پوسٹ پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے، اگرچہ انہوں نے شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کے بعد یہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر شیئر کی گئی ایک مختصر ویڈیو میں اوباما میاں بیوی کے چہروں کو جنگلی جانوروں (بندر نما تصاویر) پر فٹ کیا گیا تھا، جسے مختلف حلقوں نے کھلی نسل پرستی قرار دیا۔
یہ ویڈیو جمعرات کی رات شیئر کی گئی اور چند گھنٹوں بعد سخت تنقید کے باعث ہٹا دی گئی۔
BREAKING: Trump just posted a video on Truth Social that includes a racist image of Barack and Michelle Obama as monkeys.
— Republicans against Trump (@RpsAgainstTrump) February 6, 2026
There’s no bottom pic.twitter.com/zPEGa94dYO
جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی۔
انہوں نے وضاحت دی کہ ویڈیو کا آغاز دیکھا اور اسے نامعلوم عملے کو پوسٹ کرنے کے لیے دے دیا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ پوسٹ ایک عملے کے رکن کی جانب سے شیئر کی گئی تھی اور اعتراضات سامنے آنے پر فوری طور پر ہٹا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی کا نام آنے پربھارتی سیاست میں ہلچل مچ گئی
ابتدائی طور پر پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے تنقید کو ’جعلی غصہ‘ قرار دیا، تاہم بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے تسلیم کیا کہ ایسی پوسٹ نہیں ہونی چاہیے تھی۔
انتظامیہ یہ واضح نہ کر سکی کہ ٹرمپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو کون کنٹرول کرتا ہے یا متنازع مواد کی منظوری کیسے دی جاتی ہے۔
ری پبلکن سینیٹر ٹِم اسکاٹ، جو امریکی سینیٹ میں واحد سیاہ فام ری پبلکن ہیں، نے پوسٹ کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے یہ جعلی ہوگی۔
سینیٹر راجر وِکر نے پوسٹ کو ’اقابلِ قبول‘ قرار دیا اور ٹرمپ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
کانگریشنل بلیک کاکس کی چیئر یوویٹ کلارک نے وائٹ ہاؤس کی وضاحت مسترد کرتے ہوئے کہا ’اگر وائٹ ہاؤس میں نسل پرستانہ ماحول نہ ہوتا تو ایسی چیزیں سامنے نہ آتیں۔‘
این اے اے سی پی کے صدر ڈیرک جانسن نے ویڈیو کو ’قابلِ نفرت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اس تنازع کے ذریعے معاشی مسائل اور جیفری ایپسٹین کیس سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی اوباما خاندان کے خلاف ذاتی حملے کرتے رہے ہیں، جن میں یہ جھوٹا دعویٰ بھی شامل ہے کہ باراک اوباما امریکا میں پیدا نہیں ہوئے۔
مزید پڑھیں:پاکستان پر ڈالرز کی بارش
یہ واقعہ بلیک ہسٹری منتھ کے دوران پیش آیا، حالانکہ چند دن قبل ہی ٹرمپ نے سیاہ فام امریکیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا۔
اوباما کے ترجمان کے مطابق سابق صدر نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔