یمن میں ھوثی باغیوں کا مارب شہر پر حملے، پانچ افراد  ہلاک

Aug 07, 2026 | 22:53:PM
 یمن میں ھوثی باغیوں کا مارب شہر پر حملے، پانچ افراد  ہلاک
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

( ویب ڈیسک) یمن کے ایک حصے پر قابض حوثیوں نے  یمن کے شہر مارب پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں یمنی فورس کے 3 افراد جبکہ 2 عام شہری مارے گئے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے ڈرونز اور میزائلوں سے یمن کے شہر مارب کو نشانہ بنایا۔

یمنی فوج نے حوثیوں کے کئی ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

 ان تازہ ترین حملوں کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے وارننگ دی ہے کہ وہ زمین پر طاقت کا توازن بدلنے کی حوثی باغیوں کے  گروہ کی کوششوں پر خاموش نہیں بیٹھیں گے، جس سے ایک بار پھر یمن میں مکمل خانہ جنگی شروع ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

حالیہ دو دن مین حوثیوں نے کیا کِیا

یمن کے حوثی باغیوں  کی جانب سے گزشتہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ایک بہت بڑی اور ہولناک فوجی مہم جوئی سامنے آئی ہے، جس نے 2022ء سے جاری جزوی امن معاہدے (Truce) کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکہ-اسرائیل اور ایران کشیدگی کے دوران فروری سے اپریل تک جب ایکٹو جنگ ہو رہی تھی تب بیشتر وقت یمن میں حوثی باغی خاموش رہے، لیکن اس جنگ کے عملاً خاتمہ کے بعد اب حوثیوں نے یمنی حکومت اور سعودی عرب کے خلاف اب تک کے سب سے مہلک حملے کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیئے:   تین طاقتوں کی دفاعی شیلڈ؛ اسرائیل کی پیش قدمی کے خلاف عظیم ڈیٹرنس
ملٹری کیمپس پر  "پیشگی جوابی حملے"

 حوثی باغیوں نے یمن کے تیل سے مالامال صوبوں مآرب (Marib) اور حضرموت (Hadramout) میں سعودی حمایت یافتہ سرکاری فوج کے کیمپس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے شدید حملے کیے ہیں۔حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی سعودی عرب کی جانب سے ان کے علاقوں کے گرد ممکنہ فوجی گھیراؤ  کا  "پیشگی جواب" ہے۔


یمن کی سرکاری فوج کا بھاری جانی نقصان

 ان حملوں میں یمن کی سرکاری فوج کے کم از کم 30 سے 58 اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ عسکری حکام کے مطابق 2022ء کے بعد یہ دونوں فریقین کے درمیان ہونے والی سب سے مہلک ترین خونریزی ہے۔

نجران میں11 سعودی شہری زخمی

 حوثی باغیوں کے سرحد پار حملوں کے نتیجے میں جنوبی سعودی عرب کے سرحدی علاقے نجران (Najran) میں ایک راکٹ گرا، جس سے 11 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں ایک 4 سالہ بچہ اور خواتین بھی شامل ہیں، جن میں سعودی شہریوں کے علاوہ پاکستانی اور مصری تارکینِ وطن بھی متاثر ہوئے ہیں۔ سعودی اتحاد نے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔