تین طاقتوں کی دفاعی شیلڈ؛ اسرائیل کی پیش قدمی کے خلاف عظیم ڈیٹرنس

Aug 07, 2026 | 21:37:PM
تین طاقتوں کی دفاعی شیلڈ؛ اسرائیل کی پیش قدمی کے خلاف عظیم ڈیٹرنس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 (وسیم عظمت)پاکستان میں آج جمعہ کی شام یہ موضوع زیر بحث ہے کہ ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ سے  تین خطوں میں ایک عظیم ڈیفینس شیلڈ ایستادہ ہو رہی ہے  اور یہ اسرائیل اور ایران سمیت سارے جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے خطوں کے لئے گہرے سٹریٹیجک اثرات مرتب کرے گا۔ 

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی نے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کے تحت ان تینوں ممالک میں سے ’ ایک پر حملہ، سب پر حملہ‘ سمجھا جائے گا ارو اس سے ایسے ہی نمٹا جائے گا۔
 مکہ مکرمہ میں معاہدہ کی دستاویز پر   دستخط کرنے کے لئے وزیرِ اعظم شہباز شریف،  صدر رجب طیب اردغان اور  کراؤن پرنس محمد بن سلمان  تقریب گاہ میں کیمروں کے سامنے آئے تو ان کے چہروں پر گہرا اطمنان دور سے ہی دکھائی دے رہا تھا۔

 اس معاہدہ پر دستخط ہونے کے  موقع پر مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کی دفاعی سمٹ ہوئی جس میں  تینوں ملکوں کے رہنما شریک ہوئے۔اس سمٹ میں تینوں ممالک کے  دفاعی اور سٹریٹیجک مشترکہ مفادات کا جائزہ لیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق اس معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحانہ اقدام کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے، اور اس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ ’تینوں ریاستوں میں سے کسی کے خلاف ہونے والا کوئی بھی مسلح حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔‘
اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ تینوں ریاستوں کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں کو فروغ دینے اور انھیں مضبوط بنانے سے متعلق ہے۔
اگرچہ اس معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق اس معاہدے کا مقصد جارحیت کے کسی بھی اقدام کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت (ڈیٹرنس) کو مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ پاکستانی وزارت خٓرجہ کے  رسمی بیان کے مطابق تینوں ممالک کے دیرینہ تاریخی تعلقات اور مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور طویل عرصے جاری دفاعی تعاون کی بنیاد پر تینوں رہنماؤں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ ’یہ معاہدہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے حصول کی خاطر اپنی اجتماعی سلامتی کو مزید مستحکم کرنے اور خطے اور اس سے باہر امن ، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے تینوں ممالک کے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔‘
اس عظیم ڈیفینس شیلڈ کی  قیاس آرائیاں  تو کافی عرصے سے جاری تھیں اور  جنوری میں ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا تھا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون سے متعلق بات چیت جاری ہے۔
ترکیے کے وزیر  خارجہ فیدان نے اس وقت کہا تھا کہ صدر اردووان کی ’یہ سوچ ہے کہ ایک وسیع اور جامع پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی جائے۔‘
جنوری میں ہی پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ایک سال کے مذاکرات کے بعد دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار ہو گیا ہے۔ انھوں نے واضح کیا تھا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی معاہدے سے الگ ہو گا۔

 گذشتہ برس ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہدہ‘ ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

اب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین یہ معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی اور طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور نئے اتحاد تشکیل پا رہے ہیں۔
پاکستان  ایران امریکہ جنگ کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں شامل رہا ہے۔ سعودی عرب اس جنگ کے دوران بار بار ایرانی حملوں کا نشانہ بنتا رہا۔  جبکہ ترکیے  امریکہ ایران جنگ سے دور رہا تاہم اس دوران بھی وہ غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
اس مجوزہ معاہدے کو اس تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ پاکستان مسلم دنیا کی واحد جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاست ہے۔

جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں اہم سٹریٹیجک اثرات
 تین ملکوں کے مشترکہ دفاع کا یہ  معاہدہ  مشرق وسطیٰ ایشیا اور یورپ میں  اہم سٹریٹیجک تبدیلیوں کا پیشہ خیمہ ہے۔  یہ نہیں کہ اس کے بعد سب کچھ بدل جائے گا لیکن بہرحال مشترکہ دفاع کی یہ نئی زنجیر بہت کچھ بدل دے گی۔
ترکیے کے اخبار ’ڈیلی صباح‘ کے صحافی مہمت چلیک کہتے ہیں کہ یہ اتحاد عالمی سطح پر گذشتہ ایک دہائی میں پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ ہے۔
 ایک نیوز آؤٹ لیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے مہمت چلیک نے کہا کہ یوکرین، روس جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے کئی ممالک کے لیے سکیورٹی چیلنجز بڑھا دیئے ہیں۔خاص طور پر رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے اور اب بعض ممالک کو سکیورٹی کی ضمانت چاہیے۔
مہمت  چلیک نے کہا کہ سعودی عرب کی بات کریں تو اُسے 28 فروری کے بعد وہ سکیورٹی تحفظ نہیں ملا جس کی اسے اُمید تھی۔
’اسی طرح پاکستان کی بات کریں تو جوہری طاقت ہونے کے باوجود  پاکستان بھی چاہتا ہے کہ انڈیا کے ساتھ معاملات میں  دوست ممالک اس کے پیچھے کھڑے ہوں۔‘
عصمت چلیک نے بتایا کہ اسی طرح ترکی بھی ایسے ہمسائیوں میں گھرا ہوا ہے، جہاں سکیورٹی کے مسائل ہیں۔ لہذا اسے بھی اپنی سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مزید وسائل اور فوجی تعاون کی ضرورت ہے۔
مہمت چلیک نے کہا کہ ترکی یہ بھی چاہتا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے ایسے اقدامات جن کا اندازہ لگانا مشکل ہے، ان کے مقابلے میں ایک سکیورٹی میکنزم موجود ہو تاکہ ان ممالک کی جانب سے پیدا کیے گئے کسی عدم استحکام سے خود کو محفوظ رکھ جا سکے۔ چلیک کو یقین ہے کہ  ’یہ ایک بہت تاریخی اور اہم موقع ہے۔ نیٹو  کی دوسری سب سے مضوط فوج، جوہری صلاحیت کا حامل پاکستان، معاشی قوت اور بڑا بھائی سمجھے جانے والے سعودی عرب کے رہنماؤں کا جمعے کے روز مکہ میں جمع ہونا بہت اہم ہے۔‘

کسی کے خلاف نہیں لیکن تین ملکوں کی سلامتی  کی عظیم ضمانت

تین قوتوں کے مشترکہ دفاع کی شیلڈ تشکیل دینے والے اس  ڈائنامک معاہدے کے بعد ایکس پر اپنے بیان میں ترک صدر رجب طیب اردووان نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ ' کسی ملک کے خلاف نہیں۔

اسرائیل کی پیش قدمی کے خلاف عظیم ڈیٹرنس
پاکستان کے تجزیہ کار خاص طور سے اس معاہدہ کو  مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور اسرائیل  کی گزشتہ اور حالیہ کونفلکٹس کے  تناظر میں بہت اہم تصور کر رہے ہیں۔ 
 یہ یاد کرنا دلچسپ ہے کہ اسرائِیل کے سابق وزیرِ اعظم ن اور ممکنہ نئے وزیر اعظم ٹوگیدر پارٹی کے لیڈر نفتالی بینیٹ ے کچھ ماہ پہلے کہا تھا کہ اسرائیل کا اصل دُشمن وہ ’سُنی الائنس‘ ہے جو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے مابین طے پا رہا ہے۔ بینیٹ نے فروری میں کہا تھا کہ خطہ میں ایک نیا محور ابھر رہا ہے جس میں ترکی، قطر، اخوان المسلمین اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان شامل ہیں۔
یروشلم میں امریکی یہودی تنظیموں کے  رہنماؤں کی کانفرنس میں گفتگو  کرتے ہوئے نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ یہ اتحاد اسرائیل کے خلاف دشمنی کو ہوا دے رہا ہے اور سعودی عرب پر اثر انداز ہونے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
اس وقت پاکستان ککی وزارت خارجہ نے اس بیان پر فوری توجہ دی تھی اور  سابق اسرائیلی وزیراعظم کے پاکستان سے متعلق بیان کو قیاس آرائی قرار دیا تھا۔

اب 2026 کے اگست میں جب امریکہ کی ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کو پانچ مہینے ہو چکے ہیں ، سعودی عرب کا ترکیے اور پاکستان کے ساتھ دفاعی شیلڈ میں شامل ہو جانا پورے مشرق وسطیٰ میں نئے سٹریٹیجک توازن کا آغاز ہے۔  ان پانچ مہینوں کے دوران نمایاں طور سے یہ نظر آیا کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ میں فوجی موجودگی امن اور استحکام کی ضمانت کے لئے کافی نہیں۔ 
نئے سٹریٹیجک الائنس سے یہ توقع ہے کہ پاکستان اور ترکیے کی  دور دور تک پھیلی ہوئی سفارتی جڑوں، معاشی اور فوجی قوت کی دور تک پھیلی ہوئی گھنی  شاخوں کو سعودی عرب کا مشرق وسطیٰ اور ساری مسلم دنیا میں مضبوطی سے استوار تنا مل جانے سے تشکیل پانے والا یہ درخت سارے مشرق وسطیٰ میں استحکام کی گہری، آرم دہ چھاؤں مہیا کر رہا ہو گا اور اس کے ساتھ  معاشی ترقی کے پھل بھی لائے گا۔

پاکستان میں اطمنان کے گہرے احساسات کی لہریں

گذشتہ پانچ ماہ میں مشرقِ وسطیٰ اور تین سال میں غزہ میں جو  صورتحال رہی اس کے بعد مکہ کی مقدس فضا میں اچانک ابھر کر سامنے آنے والی عظیم دفاعی شیلڈ سے خاص طور سے پاکستان میں اطمنان کے گہرے احساسات کی لہریں اٹھنا  فطری ردِعمل ہے۔ ترکیے اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی، تجارتی تعلقات کا اس دفاعی شیلڈ کے قیام سے  موبیلائز ہونا بھی فطری آفٹر ایفیکٹ ہو گا، جس کے بارے میں  سوچ کر ہی پاکستان میں لوگ ابھی سے  اطمنان محسوس کر رہے ہیں۔
جاوید حفیظ کہتے ہیں کہ اس معاہدے کا مقام اور اس کی ٹائمنگ بھی بہت اہم ہے۔

شیلڈ کے پھیلاؤ کا امکان

 پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی معاہدہ ہونے کے کچھ ماہ بعد ہونے والے تین ملکوں کے دفاعی معاہدہ میں  مشرق وسطیٰ کے دوسرے کئی ملکوں کی شمولیت کے روشن امکان کو ابھی سے فور سی کیا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں مصر اور قطر  کے معاہدہ میں شامل تینوں ملکوں کے ساتھ قریبی تعلقات اور مشترکہ سٹریٹیجک مفادات  وہ بنیاد فراہم کر رہے ہیں جس پر تین ملکوں کی ڈیفینس شیلڈ مختصر عرصہ میں وسیع ہو کر پانچ ملکوں کی ڈیفینس شیلڈ بھی بن سکتی ہے۔

یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ معاہدہ پورے مشرق وسطیٰ کے لئے عظیم دفاعی چھتری بن کر خوف، بے یقینی اور عدم استحکام کے صحرا میں امن، استحکام اور یقین کا نیا نخلستان  اگا دے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان ، ترکیہ، سعودی عرب کے درمیان ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘‘ طے پا گیا