تحریک انصاف کو احتجاج سے کچھ حاصل ہوا؟سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے تفصیلات بتا دیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد) سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی ) کے 5 اگست احتجاج اور پارٹی کی جانب سے اس احتجاج کو کامیاب قرار دینے پر گفتگو کرتے ہوئے تفصیلات بتادیں۔
سلیم بخاری نے بیرسٹر گوہرکے اس بیان پر اپنی رائے کا اظہار کیا جس میں انہوں نےکل کا احتجاج کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عوام سڑکوں پر آئی اور عوام نے اپنے قائد کے لیے آواز اٹھائی،ان کا کہنا تھا ملک بھر کے 170 اضلاع، تمام تحصیلوں، یونین کونسلز میں بھرپور احتجاج ہوا، کل عوام نے ثابت کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں اور مائیں بھی بچوں کو ایسے دعائیں نہیں دیتیں جیسےکل عوام نے عمران خان کی رہائی کے لیے دعائیں کیں۔
سلیم بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دعوے کیا تھے اور کہ زمینی حقائق کیا تھے، پی ٹی آئی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کل انسانی سروں کا ایک سمندر نکلے گا ہر گلی ہر محلے میں ریلیاں ہوں گی اور پوری قوم بانی کے ساتھ آکر کھڑی ہو گی،یہ ان کا دعویٰ تھا اور بانی نے کہا تھا کا اس کا نقطہ عروج پانچ اگست کو لاہور ہوگا لیکن وہ نقطہ عروج تو دور کی بات وہ نقطہ آغاز بھی ثابت نہ ہوسکا،انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ ایک متعصب رائے ہو سکتی ہے لیکن پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے کہا خود ہی یہ تسلیم کر لیا کہا بانی سے اس بارے میں بات ہو گی کہ کیوں لوگ نہیں نکلے اور لیڈران بھی کیوں غائب تھے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ورکرز کو تو ایک طرف چھوڑیں لیکن جوایم این ایز ، ایم پی ایز اور دیگر ممبران پارلیمنٹ اگر نہیں نکلے ہیں تو کیا وجہ ہے اور پارٹی میں چل کیا رہا ہے؟انہوں نے کہا کہ اس بات کا ادراک پارٹی کو جلد ہو جانا چاہیے اور اگر اس پر پارٹی نے سوچ بچار نہ کی تو پارٹی کا اللہ ہی حافظ ہے۔انہو ں نے استفسار کیا کہ سیکرٹری جنرل صاحب نےتو خود اڈیالہ جانا تھا وہ کیوںنہ گئے بلکہ وہ تو چکری ریسٹ ایریا میں کھانا کھاتےہوئے پائے گے تھے۔
سلیم بخاری نے کہا کہ یہ لیڈران کبھی بھی بانی کو حقیقت کے قریب آنے نہیں دینگے کسی بھی حکومت کے لیے کونسا مشکل ہے کہ وہ کسی بھی ایجوکیشن منسٹر کو کہ کر سکولوں کے بچوں کو کسی کے لیے بھی دعائیں کرا سکتے ہیں۔چاہے وہ صدر ہو وزیر اعظم ہو یا ارمی چیف ہی کیوں نا ہوں۔اب پی ٹی آئی کو یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ ایم این ایز ، ایم پی ایز اور دیگر ممبران پارلیمنٹ کو اڈیالہ جیل کے باہر بلویا گیا تھا لیکن وہ آئے ہی نہیں۔
تحریک انصاف نے ضمنی الیکشنز میں حصہ لینا چاہیے؛
اپنی رائے کا اظہار کیا اور اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ بلکل الیکشن لڑنا چاہیے، میدان کو بلکل خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔اگر الیکشن میں حصہ نہیں لیتے تو پارٹی کمزور ہو جائے گی، انہوں نے کہا کہ ابھی بھی پارٹی میں اتنی طاقت ہے کہ وہ الیکشن جیت سکتی ہے ووٹرز ابھی بھی پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
رائزنگ انڈیا نہیں ڈیڈ انڈیا ؛
ڈونلڈ ٹرمپ کا بھارت پر مزید 25 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان اور مجموعی ٹیرف 50 فیصد تک جانے پرسینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ بھارت کی بڑی اپوزیشن جماعت نےمودی کے پرخچے اُڑا دیے ہیں اور مودی بھیگی بلی بن کر بیٹھے ہیں،مودی پاکستان سے جنگ ہار چکے تھے ٹرمپ سے درخواست کی گئی تھی کہ ہماری جان چھڑاو جس کا ٹرمپ نے کئی دفعہ اظہار بھی کیا۔
اگر ٹرمپ جھوٹ بول رہا ہے تو یہ کہ دیں کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے جس پر مودی کی خاموشی معنی خیز ہے، انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اس وقت مودی سے سخت نالاں ہے اور وہ مودی پر سختیاں بڑھا رہا ہے،روسی تیل کی خریداری میں اڈانی اور مودی نے اچھی خاصی کرپشن کی ہے جس وجہ سے مودی بول نہیں رہے کیونکہ کرپشن کی عجب کہانی ہے۔
نیتن یاہو اسرائیلیوں کی بھی جان کا دشمن ہو گیا؛
امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ پر قبضے کا معاملہ اسرائیل پر چھوڑ دیا، غزہ میں لوگوں کو کھانا کھلانے کی کوشش کر رہےہیں،اسرائیل خوراک کی تقسیم میں مدد کرےگا جبکہ عرب ممالک رقم سے مدد کریں گے،نیتن یاہو غزہ میں فوجی کارروائیوں کو وسعت دینے پر غور کر رہے ہیں۔
سلیم بخاری نے کہا کہ یہ انکل سام کی منافقت کی بد ترین شکل ہے،وہ غزہ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے،دوسری بات یہ کہ خوراک کی تقسیم اس کے ہاتھ میں دینے لگے ہیں جو کہ بھوکے لوگوں پر گولیاں برسا رہا ہے۔
زیر غور منصوبوں میں ان علاقوں میں بھی فوجی کارروائیاں شامل ہیں جہاں یہ شبہ ہے کہ یرغمالی رکھے گئے ہیں تاکہ نیتن یاہو کو جو آئے دن احتجاج کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے جان چھوٹ جائے، اسرائیلی یرغمالیوں کو اپنی ہر کوشش کے باوجود آزاد تو کرا نہیں سکتے وہ یہ چاہتے ہیں کہ کسی فوجی کاروائی کے نتیجے میں مغوی ہلاک ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں : کل احتجاج میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کہاں تھی؟قادر مندوخیل