امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز )امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی کارروائی کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کا اعلان کیا ہے۔
امریکی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق امریکی طیاروں نے چار ایرانی ڈرونز کے جواب میں کارروائی کرتے ہوئے انہیں تباہ کر دیا۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کی سمت داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو بھی کامیابی سے روک لیا گیا، اور ان حملوں میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
سینٹ کام نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے جس میں، اس کے بقول، گوروک اور جزیرہ قشم میں ایرانی ریڈار مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی بحری آمد و رفت کو درپیش فوری خطرات کے جواب میں کی گئی۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب موجود امریکی بحری جہازوں کی موجودگی پر وارننگ فائر کیے گئے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ چار ایسے آئل ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی گئی جو ایران کے بقول اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے، اور ایسی کسی بھی صورتِ حال کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
ادھر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران نے سات میزائل داغے، جن میں سے چھ کو راستے میں تباہ کر دیا گیا جبکہ ساتواں میزائل اپنے ہدف تک نہیں پہنچ سکا، کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "کونا" کے مطابق ملک کا فضائی دفاعی نظام ہفتے کے روز حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے متحرک رہا۔
علاوہ ازیں امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ بحرِ ہند میں "ڈاوینا" نامی ایک بغیر پرچم کے تیل بردار جہاز کو روک کر اس کی تلاشی لی گئی، جس کے بارے میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پابندیوں کی زد میں تھا، دریں اثنا بحرین کی وزارتِ داخلہ نے ملک میں خطرے کے سائرن بجانے اور فضائی انتباہ جاری کرنے کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :وزیر داخلہ آج ایرانی سپریم لیڈر کیلئے خصوصی پیغام لے کر تہران جائیں گے