ملک بھر میں 6 سے 10 جولائی تک بارشیں، دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 ںیوز ) دوسرے مون سون اسپیل اور مغربی ہواؤں کے سلسلے کے باعث 6 سے 10 جولائی کے دوران ملک کے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
متوقع بارشوں کے نتیجے میں پہاڑی ندی نالوں، برساتی آبی گزرگاہوں اور دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے اور طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، گلگت بلتستان میں دریائے سندھ، دریائے یاسین، دریائے غذر، دریائے کیلیک، دریائے منٹاکا، دریائے داریل اور مقامی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔
خیبرپختونخوا میں دریائے لوٹھکو، اشیرائی خوڑ، دریائے دارال، آلائی خوڑ، گڑائی خوڑ، خان خوڑ، دریائے پالاس، دریائے سیرن، دریائے دھور، دریائے جندی، دریائے بارہ، دریائے گومل، ٹانک زام اور دیگر مقامی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
آزاد کشمیر میں دریائے نیلم، دریائے پونچھ، دریائے جہلم، دریائے ماہل اور ان کے معاون ندی نالوں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، شمال مشرقی پنجاب میں سیالکوٹ کے پھلکو نالہ، نارووال کے بین، بسنتر اور ڈگ نالوں جبکہ ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی برساتی نالوں میں مقامی سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بلوچستان میں دریائے ژوب، دریائے کنگری اور بارکھان، لورالائی، مستونگ اور قلات کے برساتی ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے، آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران دریائے سوات، دریائے پنجکوڑہ اور ان کے معاون دریاؤں میں بھی پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کا امکان ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 70 ہزار کیوسک تک پہنچ سکتا ہے، دریائے سندھ میں تربیلا ڈیم کے بالائی علاقوں میں بھی نچلے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 70 ہزار کیوسک تک پہنچنے کی توقع ہے۔
دریائے چناب کے مرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر بھی نچلے درجے کے سیلاب کا امکان ہے، پیر پنجال رینج سے آنے والے سرحد پار ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے، ہنگامی انتظامات مکمل رکھنے اور حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں کو عبور کرنے سے اجتناب کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا پانی پر ناقابلِ تنسیخ حق ہے؛عطاءتارڑ