پی ٹی آئی احتجاجی تحریک ناکام کیوں ہوئی؟سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے اہم وجوہات بتادیں

Aug 06, 2025 | 00:45:AM
پی ٹی آئی احتجاجی تحریک ناکام کیوں ہوئی؟سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے اہم وجوہات بتادیں
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) احتجاجی تحریک ناکام ہونے کی بنیادی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ توقع یہ  کی جا رہی تھی کہ 5 اگست کی  تحریک ایک بہت کامیاب تحریک ہو گی لیکن چند دن پہلے بانی پی ٹی آئی عمران خان  نے خود اس تحریک کی ناکامی کا اعتراف کر لیا تھا۔

 شو میں سلیم بخاری نے تحریک کی ناکامی اور اس کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ توقع یہ  کی جا رہی تھی کہ 5اگست کی  تحریک ایک بہت کامیاب تحریک ہو گی لیکن چند دن پہلے بانی پی ٹی آئی نے خود اس تحریک کی ناکامی کا اعتراف کر لیا تھا اور کہا تھا کہ مجھے مومینٹم  بنتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا،تو کہانی اسی دن بیانہ ہو گئی تھی کیوں کے اتنی بڑی تحریک کے لیے تیاری اور پلاننگ نظر نہیں آرہی تھی،اس کا مطلب یہ تھا کہ جو منظر نامہ بانی جیل میں بیٹھے سوچ  رہے تھے وہ بنتا نظر نہین آرہا تھا۔

تحریک کی ناکامی کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کی ناکامی کی وجوہات میں یہ بھی شامل تھا کہ جو کچھ9مئی کو ہوا جو کچھ26 نومبر کو جو کچھ ہوا جس طریقے سے ورکرز کو لاوارث چھوڑا گیا جس طریقے سے ان کو جیلوں میں جانے دیا گیا جس طرح ان کو ملٹری کورٹس سے سزائیں ہونے دی گیئں،ان عوامل نے ورکرز میں بد دلی پیدا کر دی تھی یہ سب چیزیں پارٹی کی قوت  اور ورکرز کے اندر بہت گہرا اثر چھوڑ تا ہے،ایک اور چیز ورکرز اور لیڈر شپ کے درمیان فاصلہ ہے،سلیم بخاری  نے کہا کہ یہ چیز بڑی پارٹیوں مین دیکھی گئی ہے کہ جب لیڈر شپ اور ورکرز کے درمیان بے حسی پھیل  جاتی ہے تو  پارٹیاں  اپنی سٹریٹ پاور کھو دیتی ہیں۔

سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ پارٹی عمران خان کی متحرک اس لیے ہے کیونکہ اس میں دھڑے بندیاں ہیں،اس سوال کے جواب میں کہ لاء اینڈ ارڈر کی صورتحال خراب تو نہ تھی پھر اتنی گرفتاریاں کیوں  کی ہیں؟ پی ٹی آئی  حفظ ماتقدم کے طور پر کی گئی ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کا ریکارڈ رہا ہے کہ اس نے ریکارڈ کے نام پر توڑ پھوڑ کی ہے،انہوں نےکہا کہ 300بندے پکڑ لینے سے تحریک ناکا م ہو گئی جو پارٹی 24 کروڑ   کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہے  کیا وہ  چند لوگوں  کی گرفتاری سے ناکام ہو گئی۔

انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ عمران خان پاپولر لیڈر نہیں ہیں وہ آج بھی سب سے زیادہ پاپولر لیڈر ہیں اور اگر آج بھی الیکشن کرائے جائیں تو عمران خان کی پارٹی کو  کوئی  بھی نہیں ہرا سکتا،ان کی دو طاقت ہیں ووٹر  اور ورکرز۔

 5 اگست یوم استحصال کشمیر

5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا پر عیاں ہوگیا،اس حوالے سےتجزیہ کرتے ہوئے سلیم بخاری  نے کہا کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کے مسلم تشخص کو مسخ کرنے کیلئے ہر حربے کا استعمال کر رہی ہے، آرٹیکل 370 اور 35ـA کی غیر آئینی تنسیخ جنیوا کنونشن 4 کے آرٹیکل 49 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ 5 اگست 2019 کو مودی سرکار نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد اور ہندوستانی آئین اور مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کو ناجائز طور پر غصب کردیا تھا،بھارت آزادی کے بعد سے خود کو سیکولر ملک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ انڈیا ہمیشہ سے ایک ہندو ملک رہا ہے۔ 

کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد میں بہت قربانیاں دے چکے ہیں،آج ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں، کشمیری نہ ہارے ہیں اور نہ انہیں کوئی ہراسکتا ہےانہوں نے کہا کہ کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد میں بہت قربانیاں دے چکے ہیں، آج ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں، کشمیری نہ ہارے ہیں اور نہ انہیں کوئی ہراسکتا ہے۔

 ٹرمپ کا  بھارت پر مزید ٹیرف لگانے کا اعلان وجہ کیا ؟

اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا کہ اس کی وجوہات کئی زیادہ ہیں جو دونوں طرف سے ہیں، سب سے پہلے تو ٹرمپ نے جن لوگوں کو امریکہ سے نکالا ہے جو کہ غیر قانونی طور پر امریکہ میں رہ رہے تھے،ان میں  سب سے زیادہ بھارتی ہیں، پھر ٹیلی کام میں بھی ٹرمپ نے کہا  تھا کہ بھارتیوں کو ملازمت  پر نہ رکھا جائے،پھر جو کمپنیاں چین سے موبائیل لیکر امریکہ مین آرہی تھیں ان کو روک دیا، اس سب کے علاوہ ٹرمپ کی نارضگی کی وجہ یہ ہے کہ وہ کئی مرتبہ کہ چکے ہیں کہ میں نے پاک بھارت جنگ بند کرائی ہے پاکستان نےتو اس کو مانا ہے لیکن انڈیا صاف انکاری ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہے لیکن اب جو دلیل دی جارہی ہے کہ کیونکہ بھارت نے روس سے تیل کی خریداری جاری رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک اچھا تجارتی پارٹنر نہیں رہا کیونکہ وہ ہمارے ساتھ بہت زیادہ کاروبار کرتے ہیں لیکن ہم ان کے ساتھ کاروبار نہیں کرتے، اس لیے ہم نے 25 فیصد ٹیرف لگانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن میں اگلے 24 گھنٹوں میں اس میں بہت زیادہ اضافہ کرنے جا رہا ہوں کیونکہ وہ روسی تیل خرید رہے ہیں تو کہنے کا مقصد یہ کہ بہت ساری وجوہات ہیں ٹرمپ کی ناراضگی کی۔

اب دلچسپی کی بات ہے کہ بھارت امریکہ سے دور ہو رہا ہے اور روس اور چین کے نزدیک ہو رہا ہے جبکہ پاکستان چین اور امریکہ کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہا ہے،انہوں  نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ جس طرح زولفقار علی بھٹو  نےچین اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا تھا اسی طرح اب ایک بار پھر موقع ہے کہ پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان پل کا کردار ادا کرے۔ 

یہ بھی پڑھیں: ماڈل ٹاؤن میں پی ٹی آئی کارکنان کی پوری ریلی گرفتار