بلوچستان اسمبلی، قادیانیوں کےفتنے کےخلاف سخت اقدامات اٹھانے کی قرارداد منظور

پبلک سروس کمیشن میں مسابقتی امتحانات کے attempts کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے بھی قرارداد منظور

Sep 05, 2025 | 19:07:PM
بلوچستان اسمبلی، قادیانیوں کےفتنے کےخلاف سخت اقدامات اٹھانے کی قرارداد منظور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) بلوچستان اسمبلی کے آج ہونیوالےاجلاس  میں قادیانیوں کے فتنے سے پاکستان کو بچانے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کے حوالے سے اور پبلک سروس کمیشن میں مسابقتی امتحانات کے attempts کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے قراردادیں  پیش کی گئیں۔ ایوان نے دونوں قراردادیں منظور کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں 40  منٹس کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کی کاروائی  میں  توجہ دلاؤ نوٹس ، وقفہ سوالات اور غیر سرکاری کاروائی شامل  تھی۔ایوان نے مولانا ہدایت الرحمن اور ظفر اللہ اوکے توجہ دلاو نوٹسز نمٹادئیے۔رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان نےقادیانیوں کے فتنے سے پاکستان کو بچانے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے کے حوالے سر قرارداد پیش کی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی آف پاکستان نے 07 ستمبر 1974 کو قادیانیوں کو کافر قرار دیا،قادیانی وہ فتنہ تھا جو عقیدہ ختم نبوت پر ضرب لگانے کی سازش کر رہے تھے،اس وقت کے جید علماء کرام نے پورے ملک میں تحریک چلا کر دلائل کے ساتھ قومی اسمبلی کو قائل کیا کہ قادیانی کافر ہیں،اس وقت کے وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو بھی قائل کیا گیا،وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو، قومی اسمبلی کے اراکین اور دیگر علماء کرام کی جدو جہد کو خراج تحسین پیش کرتا ہے ،وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو، قومی اسمبلی کے اراکین اور دیگر علماء کرام کی جدو جہد کو خراج تحسین پیش کرتا ہے ،یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیوں کے فتنے سے پاکستان کو بچانے کے لئے سخت اقدامات اٹھائے،یہ ایوان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے ممبر صوبائی اسمبلی راحیلہ درانی  کا کہنا تھا کہ قادیانیت فتنہ ہے اس کو ختم ہوناچاہیے ،نبی کریمﷺ  کی ذات پر کوئی کمپرومائز نہیں کیاجائے  گا، نوجوان نسل کو ورغلایاجارہاہے ، اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے ،بلوچستان اسمبلی  نے قادیانیوں کو کافر قراردینے کی قرارداد منظور کرلی۔

آج کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے  پبلک سروس کمیشن میں مسابقتی امتحانات کے attemptsکی تعداد میں اضافے کے حوالے سے مشترکہ طور پر  قرارداد پیش  کی۔قرارداد کے متن میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان کے طلباء کو ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں منفر دسماجی، اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے چیلنجز کا سامنا ہے،صوبہ کے طلباء کو PCS اور دیگر مسابقتی امتحان پاس کرنے کے لئے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کی جانب سے صرف تین مواقع فراہم کئے جاتے ہیں،موجودہ نظام کی وجہ سے بلوچستان کے طلباء کا دیگر صوبوں کے طلباء کے مقابلے ایک بڑا نقصان ہوتا ہے،خیبر پختونخوا حکومت نے اپنے صوبے میں  تعداد 3 سے بڑھا کر 5 کرنے کی منظوری دی ہے،بلوچستان کے طلباء کو 5 کی اجازت سے تمام طلباء کو مساوی مواقع فراہم ہونگے ۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ پی سی ایس اور دیگر مسابقتی امتحانات کے (attempts) کی تعداد کو 3 سے بڑھا کر 5 کرنے کے لئے متعلقہ قوانین میں ضروری ترامیم کرنے کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے،صوبے میںبے روزگاری میں کمی کے ساتھ ساتھ ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ایوان نے پبلک سروس کمیشن میں مسابقتی امتحانات کے attemptsکی تعداد میں اضافے کے حوالے سے قرارداد مظور کرلی۔

اس کے علاوہ آج ہونیوالے اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی ولی محمد نورزئی ، محمد خان لہڑی اور صفیہ بی بی  کو  پبلک اکاونٹس کمیٹی کی اتفاقیہ خالی اسامیوں پر منتخب کرلیا۔ایوان نے علی مدد جتک  رکن اسمبلی  کو مجلس قائمہ برائے محکمہ داخلہ و قبائلی امور، جیل خانہ جات  و  پی ڈی ایم اے  منتخب کرلیا۔ بعد ازاں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 8ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ماننا چاہیے کہ وزیراعلیٰ پنجاب بہت محنت کررہی ہیں، بلاول بھٹو