اسلام آباد ہائیکورٹ کا رجب بٹ کا نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم

May 05, 2026 | 14:19:PM
اسلام آباد ہائیکورٹ کا رجب بٹ کا نام پی سی ایل سے نکالنے کا حکم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(احتشام کیانی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے یوٹیوبر رجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

عدالتِ عالیہ کے جسٹس اعظم خان نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ رجب بٹ کا نام فوری طور پر پی سی ایل سے خارج کیا جائے، بشرطیکہ اس کے خلاف کوئی اور قانونی رکاوٹ یا کسی مجاز عدالت کا حکم موجود نہ ہو۔

فیصلے میں کہا گیا کہ فریقین کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی درخواست پر رجب بٹ کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا تھا  تاہم ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ این سی سی آئی اے کو اب اس نام کے اخراج پر کوئی اعتراض نہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کسی فرد کا نام پی سی ایل میں شامل کرنے کا اختیار پاسپورٹ ایکٹ اور متعلقہ قواعد میں موجود ہے، لیکن یہ اختیار لامحدود نہیں اور اسے منصفانہ اور قانونی طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے، عدالت کے مطابق پی سی ایل میں نام شامل کرنے سے شہری کے آزادانہ نقل و حرکت کے بنیادی حق پر اثر پڑتا ہے، اس لیے ایسی پابندی کے لیے ٹھوس وجوہات ضروری ہیں۔

فیصلے میں نشاندہی کی گئی کہ ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کو پی سی ایل میں شامل کرنے سے قبل کوئی شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا، جبکہ صرف انکوائری یا تحقیقات کا جاری ہونا سفری پابندی کے لیے کافی نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: انتظامی اختلافات :سندھ میں 2 تعلیمی بورڈز کے چیئرمین عہدوں سے مستعفی 

عدالت نے مزید کہا کہ پی سی ایل کا بنیادی مقصد کسی شخص کی تفتیشی اداروں یا عدالت کے سامنے حاضری یقینی بنانا ہے، اور جب یہ مقصد حاصل ہو جائے تو پابندی برقرار رکھنا غیر ضروری ہو جاتا ہے، عدالت کے مطابق فریقین یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ درخواست گزار کے فرار ہونے یا تفتیش پر اثر انداز ہونے کا کوئی خدشہ موجود ہے۔

تحریری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ درخواست گزار پہلے ہی تفتیشی ادارے کے سامنے پیش ہو کر انکوائری میں شامل ہو چکا ہے، جبکہ متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے این او سی ملنے کے بعد اس کا نام پی سی ایل میں برقرار رکھنا غیر قانونی اور بلاجواز ہے۔