غیر ملکی خواتین کے اغوا کا مقدمہ متعلقہ تھانہ کی پولیس ہی نمٹائے گی، ڈی آئی جی آپریشنز کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) لاہور پولیس نے تصدیق کر دی کہ پولیس کو دو غیر ملکی خواتین کے لاہور میں اغوا ہو جانے کی شکایت بیرون ملک سے موصول ہوئی تھی۔ ایک غیر ملکی خاتون کے والد نے ون فائیو پر کال کر کے اپنی بیٹی کے لاہور میں اغوا کی شکایت کی تھی۔ ڈی آئی جی نے اعلان کیا ہے کہ غیر ملکی لڑکیوں کے اغوا، ریپ اور تاوان وصولی کے سنگین جرم کی تفتیش کرائم کنترول ڈیپارٹمنٹ نہیں لاہور پولیس کے متعلقہ تھانہ کے اہلکار ہی کریں گے۔
لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے آج لاہور میں نیوز کانفرنس کر کے بتایا کہ اس کیس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی کال آئی اور انہوں نے میرٹ پر کارروائی کرنے کا کہا۔
فیصل کامران نے اپنے آفس مین نیوز کانفرنس کر کے صحافیوں کو اس غیر معمولی اہمیت کے حامل کیس کے حقائق سے آگاہ کیا اور اب تک ہوئے واقعات اور تفتیش کی تفصیل بتائی۔
انہوں نے بتایا کہ دو غیرملکی خواتین 26 جون کو اسلام آباد آئیں اور 29 جون کو لاہور آئیں۔ ان غیرملکی خواتین کے لاہور آتے ہی ان کے اغوا ہو جانے کی اطلاع ملی۔ ایک غیر ملکی خاتون کے والد نے ون فائیو پر کال کر کے اپنی بیٹی کے لاہور میں اغوا ہونےکی شکایت کی تھی۔
غیر ملکی خواتین نے میڈیکل ایگزامینیشن کے بعد سیشن 164 کے تحت میجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کروانے پر رضامندی دی۔ یہ بیان ریکارڈ ہونے کے بعد ہالینڈ کے قونصلر خود میجسٹریٹ کی عدالت میں موجود رہے۔
ڈی آئی جی فیصل کامران نے بتایا کہ تفتیش کا آغاز اس گاڑی کے نمبر سے کیا گیا جس کی فوٹو ایک غیر ملکی خاتون نے اپنے والد کو بھیجی تھی اور انہوں نے یہ فوٹو ہمیں بھیجی تھی۔ اس گاڑی کے نمبر سے ایکسائز ریکارڈ سے مالک کو ٹریس کیا گیا۔ گاڑی کی رجسٹریشن کے ساتھ ایک فون نمبر ملا۔ اس فون نمبر پر کال کی گئی تو یہ بند تھا۔ اس نمبر سے متعلق کئی دوسرے نمبروں کو چیک کیا گیا۔ سرگودھا کے رابطے ٹریس ہوئے، وہاں ریڈ کی گئی۔ دراصل تین جگہ بیک وقت ریڈز کی گئیں۔ ان ریڈز سے ملزموں کو اطلاع پہنچی ہو گی۔ جب فیملی ٹری نکالا گیا اور جب ہم ڈیفینس میں ایک گھر تک گئے تو وہاں سے بتایا گیا کہ یہاں رہتے تو تھے، چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ وہیں سے پتہ چلا کہ یہ غالباً ایک سینئیر حکومتی عہدیدار کے رشتہ دار ہیں۔
ڈی آئی جی فیصل کامران نے بتایا کہ جیسے ہی یہ چیز سامنے آئی تو ہم نے اس انفارمیشن کو فیملی سے ہی کنفرم کیا۔ فیملی سے ہمارے پاس کونٹیکٹ نمبر آ گیا۔ ہم نے فوری طور پر اس فون نمبر کی لوکیشن ٹریس کرنا شروع کر دی۔
فیصل کامران نے بتایا کہ پھر فیملی نے ہی رابطہ کر کے کہا ہو گا کہ سرنڈر کرو۔ اس سارے معاملہ میں دو تین چیز ذہن میں رکھیئے؛ سرگودھا میں ریڈ ہو رہا ہے، شاہدرہ والے گھر میں ریڈ ہو رہا ہے، ڈیفینس میں ریڈ ہو رہا ہے۔ لوگوں کو پتہ لگنا شروع ہو گیا کہ پولیس پیچھے پہنچ گئی ہے۔ اس کے ساتھ امیجئیٹلی یہ ہوا کہ وہ جو ملزم تھا، اس نے لڑکیوں سے کہا کہ جی بس ٹھیک ہے، پیسے آ گئے ہیں، آئیں میں آپ کو ائیرپورٹ پر چھوڑ دیتا ہوں۔ اس نے دونوں لڑکیوں کو گاڑی میں بٹھایا اور بھٹہ چوک تک پہنچ گیا۔ اس کا ثبوت دفعہ ایک سو چونسٹھ کے بیان میں بھی ہوا۔
وہ لڑکیاں اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھیں، گاڑی چلتی ہے اور پہنچتی ہے بھٹہ چوک، وہاں لڑکیوں کو یہ محسوس ہوا کہ وہ انہیں ائیرپورٹ نہیں لے جا رہا۔ آپ ان لڑکیوں کی ذہنی کیفیت کو مدنظر رکھیں،وہ ایک دوسرے ملک آتی ہیں، اغوا ہو جاتی ہیں، گن پوائنٹ پر رہتی ہیں۔ ان کے ساتھ زیادتی بھی ہوتی ہے۔ وہ ٹراما میں تھیں، انہوں نے گاڑی سے چھلانگ لگا دی۔ ایک لڑکی کا باپ اس کے ساتھ رابطے میں تھا۔ وائس میسج سے وہ رابطے میں تھا۔ اس کی پھر وٹس ایپ پر کانفرنس کال ہوتی ہے اے ایس پی سے، وہ بیٹی کو بھی بیچ میں جوائن کرواتا ہے۔ تب وہ بتاتی ہیں کہ ہم یہاں سے نکل آئی ہیں اور یہاں موجود ہیں۔ تب اے ایس پی اس فلٹر ہاؤس پہنچتا ہے جہاں وہ لڑکیاں موجود ہیں۔ اس دوران یہ لرکیاں گاڑی کے ایکسینڈنٹ کے بعد گاڑی سے بھاگ کر قریبی دوکان پر چلی جاتی ہیں جہاں اے ایس پی نے پہنچ کر ان کو بازیاب کیا۔
فوری طور پر یہ واقعہ سی سی پی او اور دوسرے اعلیٰ افسران کے نوٹس میں لایا گیا ۔ فیصل کامران نے بتایا کہ جب کسی بڑی شخصیت کا کوئی رشتہ دار کسی مقدمہ میں ملوث نکلے تو اعلیٰ افسروں کو اطلاع دینا پڑتی ہے۔ فیصل کامران نے بتایا کہ تمام ملزموں کو عام ملزموں کی طرح ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا اور معمول کے مطابق ان سب کا جسمانی ریمانڈ لیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز ن۷ے کہا کہ ان دو خواتین کو اغوا کرنے والوں کی گاڑی کہاں کہاں سے گزری ، تمام ریکارڈ ٹریس کیاگیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے انکشاف کیا کہ تفتیش کے دوران ملزموں کا تعلق سرگودھا اور دوسرے علاقوں سے معلوم ہوا تھا۔ ان غیر ملکی لڑکیوں کی بازیابی کیلیے سرگودھا میں چھاپہ مارا گیا تھا۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ گاڑی کی لوکیشن کی مدد سے رضا ڈار کو ٹریس کیاگیا تھا۔
دو جولائی کو 4 افراد کو گرفتار کیاگیا۔ غیر ملکی خواتین کا بیان موجود ہےکہ پنجاب پولیس نے اُن کو بازیاب کروا لیا تھا۔
میڈیکل ایگزیمینیشن اور سیکشن 164 کے بیان ریکارڈ کروانے کے بعد غیر ملکی خواتین کو ان کی خواہش کے مطابق بیرون ملک روانہ کیاگیا۔