پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما فوزیہ حبیب انتقال کر گئیں،صدر زرداری کا اظہارِ افسوس

Jul 05, 2026 | 10:25:AM
پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما فوزیہ حبیب انتقال کر گئیں،صدر زرداری کا اظہارِ افسوس
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سابق رکنِ قومی اسمبلی فوزیہ حبیب انتقال کرگئیں،۔

مرحومہ کی نماز جنازہ آج 5 جولائی اتوار کو  رات 10 بجے  ایچ 8 قبرستان  اسلام آباد میں ادا کی جائے گی،  زرداری  نے فوزیہ حبیب کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔  

صدر آصف علی زرداری نے فوزیہ حبیب کے انتقال کو پاکستان پیپلز پارٹی اور ملکی سیاست کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا، انہوں نے کہا کہ مرحومہ نے اپنی پوری سیاسی زندگی عوامی خدمت، جمہوریت کے استحکام اور پارٹی کے نظریات کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔

فوزیہ حبیب نہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک متحرک اور باصلاحیت رہنما تھیں بلکہ انہوں نے مختلف ذمہ داریوں پر رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ بھی کیا،ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مرحومہ نے صدر آصف علی زرداری کے پہلے دورِ صدارت، جو 2008ء سے 2013ء تک جاری رہا، اس دوران ایوانِ صدر کے عملے کے رکن کے طور پر بھی فرائض انجام دیے،اس عرصے میں انہوں نے نہایت دیانتداری، لگن اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ خدمات سرانجام دیں، جنہیں آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بی جے پی رکن اسمبلی راجو کمار سنگھ کو 4 سال قید کی سزا اور 25 لاکھ روپے جرمانہ

صدرِ مملکت نے مرحومہ کے اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ فوزیہ حبیب کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت اور درجات بلند کرے، جبکہ سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق دے۔

دوسری جانب چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بھی سابق رکنِ قومی اسمبلی فوزیہ حبیب کےانتقال پر گہرے رنج و غم اور دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے تعزیتی بیان میں چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ فوزیہ حبیب کے انتقال کی خبر سن کر انتہائی دکھ اور صدمہ ہوا ہے،مرحومہ ایک متحرک سیاسی رہنما تھیں، جن کی سیاسی و عوامی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،ان کی وفات پارٹی اور ملک کے سیاسی منظر نامے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔