کامران مرتضیٰ نے صنعتی تعلقات (ترمیمی) بل 2026 پیش کرنے کا نوٹس سینیٹ میں جمع کروا دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) سینیٹ میں صنعتی تعلقات (ترمیمی) بل 2026 پیش کرنے کا نوٹس جمع کروایا گیا ہے۔
جمعیت علما اسلام کے سنیٹر کامران مرتضٰی نے نوٹس پیش کیا ہے۔ اس ترمیم کے بل مین کہا گیا ہےکہ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، صنعتی امن کے فروغ اور صنعتی تعلقات کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنانا ہے۔
اس ترمیم کے بل کے مطابق مزدور یا ورکر کی حیثیت کا تعین عہدے، گریڈ، پے گروپ یا بی پی ایس کی بجائے اس کے اصل فرائض اور ذمہ داریوں کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
ایسے اداروں میں جہاں 3,000 سے کم کارکن کام کرتے ہوں، اجتماعی سودے بازی یونٹس (CBUs) کی ازسرنو تشکیل کی جا سکے گی تاکہ نمائندگی کا نظام زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔
ٹریڈ یونینز اور ایسوسی ایشنز کی مدت دو سال مقرر کی جائے گی۔ مقررہ وقت پر انتخابات نہ کرانے والی یونین از خود ختم تصور ہوگی۔
رجسٹرار کے عہدے کے خالی ہونے کی صورت میں فوری طور پر سینئر افسر کو قائم مقام ذمہ داری دی جائے گی۔ مستقل تقرری کے عمل کو مقررہ مدت میں مکمل کرنا لازمی ہوگا۔
مزدوروں کی شکایات کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر کرنا لازم ہوگا۔ تاخیر کی صورت میں پارلیمانی نگرانی اور جوابدہی کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
فیصلوں پر عمل نہ کرنے کی صورت میں جرمانوں میں نمایاں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے بل کے مطابق جرمانے کا فائدہ براہ راست متاثرہ مزدور کو پہنچے گا۔
چیئرمین اور ارکان کی تقرری کے لیے متعلقہ تعلیمی قابلیت اور تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تمام تقرریاں اشتہار، مقابلے اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں گی۔ اپیلوں کا فیصلہ 90 دن کے اندر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ تاخیر کی صورت میں پارلیمانی نگرانی کا نظام موجود ہوگا۔
یہ بھی پڑھیئے: ہمیں اتنا نہ دبائیں کہ سسٹم سے باہر نکلنے پر مجبور ہوجائیں، بیرسٹر گوہر کی دھمکی
اس ترمیم کے بل میں کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ مزدوروں کے حقوق، قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور مقدمات سے متعلق معلومات ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر فراہم کرے۔
مجوزہ ترامیم کا بنیادی مقصد مزدوروں کو فوری انصاف، بہتر نمائندگی، شفاف ادارہ جاتی نظام اور صنعتی ہم آہنگی فراہم کرنا ہے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ یہ بل صنعتی تعلقات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، مزدوروں کو بروقت انصاف فراہم کرنے اور ادارہ جاتی شفافیت و جوابدہی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قانون سازی کی کوشش ہے۔