پاکستان کے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد  کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات

Jun 04, 2025 | 00:37:AM
 پاکستان کے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد  کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات
کیپشن: تصویر، فائل
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(انور عباس)جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد  نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات کی، ترجمان پاکستانی مستقل مشن نے بتایا کہ پاکستان کے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد نے آج اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز میں اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس سے ملاقات کی,وفد کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ  بلاول بھٹو زرداری کر رہے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ملاقات بھارت کی حالیہ عسکری اشتعال انگیزی اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھی,دوران ملاقات بلاول بھٹو نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو وزیراعظم پاکستان کا خط پیش کیا۔

ترجمان پاکستانی مستقل مشن کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اُقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کی جانب سے تحمل، مکالمے اور سفارتکاری کی اہمیت پر زور دینے والے بیانات اور کوششوں کو سراہا,بلاول بھٹو نے 22 اپریل کے پہلگام حملے کے بعد کی صورتحال میں پاکستان کے مؤقف سے سیکریٹری جنرل کو آگاہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ  پاکستان پر بھارت کی جانب سے بغیر تحقیق یا شواہد کے لگائے گئے بے بنیاد اور قبل از وقت الزامات کو سختی سے مسترد کیا,انہوں نے زور دیا کر کہ بھارتی یکطرفہ فوجی اقدامات بشمول شہریوں پر حملے، ہلاکتیں، شہری انفراسٹرکچر کو نقصان، اور سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ معطلی نہایت خطرناک اقدامات ہیں،یہ بھارتی اقدامات پورے خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

سابق وزیر خارجہ نے بھارتی اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان کی بالغ نظری، ذمہ دارانہ اور پُرامن طرزِ عمل پر روشنی ڈالی, انہوں نے اقوام متحدہ چارٹر کے اصولوں، بشمول حقِ دفاع، اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے حوالے سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا,انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت "نیا معمول" قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ یکطرفہ اقدامات، طاقت کے استعمال اور استثنیٰ پر مبنی ہے ۔

 ترجمان پاکستانی مستقل مشن نے بتایا کہ بھارتی "نیا معمول" جوہری خطے میں ایک بڑے تنازعے کو جنم دے سکتا ہے,بلاول بھٹو زرداری نے سیکریٹری جنرل سے درخواست کی کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے خاتمے، مکالمے کے فروغ، اور سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کریں, انہوں نے خصوصی طور پر مسئلہ جموں و کشمیر پر جامع مذاکرات کے آغاز کی ضرورت پر زور دیا۔

انھوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے,وفد نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے انسانی اثرات، بھارتی بلاجواز جارحیت، اور اقوام متحدہ چارٹر و بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی,انہوں نے اس امر پر اظہار افسوس کیا کہ پاکستان پر آبی جنگ مسلط کی جا رہی ہے,اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل نے پاکستان کی امن پسندی کی خواہش کا خیرمقدم کیا۔

ترجمان پاکستانی مستقل مشن کے مطابق انہوں نے خطے میں امن، تحمل اور سفارتکاری کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی مضبوط دلچسپی کا اعادہ کیا, انتونیو گوتریس نے یقین دہانی کرائی کہ اقوام متحدہ کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے، اقوام متحدہ چارٹر اور سلامتی کونسل متعلقہ قراردادوں کے مطابق، تمام کوششوں کی مکمل حمایت جاری رکھے گا,سیکریٹری جنرل نے وفد کو یقین دلایا کہ اقوام متحدہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مکمل طور پر سرگرم ہے اور اقوام متحدہ کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے حل کی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں :کوہلی کی شاندار پرفارمنس، رائل چیلنجرز بنگلور نے پہلی بار آئی پی ایل جیت لی