افغانستان: صوبہ تخار میں سونے کی کان کنی پر طالبان اور مقامی آبادی میں جھڑپیں، متعدد زخمی
Stay tuned with 24 News HD Android App
( ویب ڈیسک )شمالی افغانستان کے صوبہ تخار کے ضلع چاہ آب میں سونے کی کان کنی کے منصوبے پر طالبان اور مقامی رہائشیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، مقامی ذرائع کے مطابق طالبان سے منسلک ایک کان کنی کمپنی کے اہلکار اور طالبان جنگجو رہائشی علاقے میں داخل ہوئے، جس پر عوام نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کے دوران دونوں جانب متعدد افراد زخمی ہوئے۔
Armed TTP militants attacked a village in Takhar Province, northern Afghanistan, forcing families to flee their ancestral homes and leaving the community uprooted and terrified. pic.twitter.com/AdHfIAQeHh
— South Asia Times (@_southasiatimes) January 3, 2026
عینی شاہدین کے مطابق علاقے میں سونے کی تلاش اور کان کنی کا منصوبہ مقامی آبادی کی مرضی کے بغیر شروع کیا جا رہا تھا، جس پر لوگوں نے احتجاج کیا۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب مبینہ طور پر حال ہی میں گاؤں پہنچنے والے کچھ افراد نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص زخمی ہوا۔
فائرنگ کے بعد مشتعل افراد نے کان کنی کمپنی کی گاڑیوں پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلادیش کا ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے سکواڈ کا اعلان
گزشتہ 4 برسوں کے دوران طالبان نے افغانستان کے مختلف صوبوں میں کان کنی کو آمدنی کے ایک اہم ذریعے کے طور پر فروغ دیا ہے۔ سونا، کوئلہ، لیتھیم اور دیگر قیمتی معدنیات طالبان کی مالی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
مقامی باشندوں اور ناقدین نے بارہا طالبان کے زیرِ انتظام معدنی وسائل کی کان کنی میں شفافیت کے فقدان پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ان خدشات میں یہ شامل ہے کہ کان کنی کے ٹھیکے کس بنیاد پر دیے جا رہے ہیں اور قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کہاں اور کیسے استعمال ہو رہی ہے۔