وینزویلا پر امریکی حملے کےجواز ناقابلِ قبول،سلامتی کونسل اجلاس کرے، روس کا مطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) روس نے وینزویلا پر امریکی حملے کے کسی بھی جواز کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔
روسی فیڈریشن کی وزارتِ خارجہ کا امریکہ کی وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت پر بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیوز کانفرنس کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت تشویش کا باعث اور قابل مذمت ہے۔
روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، ان اقدامات کو جائز ٹھہرانے کے لیے پیش کیے گئے جواز ناقابلِ قبول ہیں۔
روس کے ترجمان نے کہا، آج امریکہ نے وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت کا ارتکاب کیا، جو باعث تشویش اور قابلِ مذمت ہے۔ ترجمان نے تشویش کے ساتھ کہا، نظریاتی دشمنی نے عملی اور حقیقت پسندانہ سفارت کاری، اعتماد پر مبنی تعلقات پر غلبہ پا لیا ہے۔موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ مزید کشیدگی کو روکا جائے۔ بات چیت کے ذریعے تنازعات کے حل تلاش کرنے پر توجہ دی جائے۔
روس کے ترجمان نے کہا، ہمارا مؤقف ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف تحفظات یا شکایات رکھنے والے تمام فریقین کو مذاکرات پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے۔ م ایسی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں
روسی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا، لاطینی امریکہ کو امن کا خطہ برقرار رہنا چاہیے جیسا کہ اس نے 2014 میں خود کو قرار دیا تھا۔
وینزویلا کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی قسم کی تباہ کن، بالخصوص فوجی، بیرونی مداخلت کے بغیر اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرے۔
روسی ریاست کے ترجمان نے مزید کہا، ہم وینزویلا کے عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں اور اس کی بولیویرین قیادت کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کی پالیسی کا مقصد ملک کے قومی مفادات اور خودمختاری کا تحفظ ہے۔
ہم وینزویلا کے حکام اور لاطینی امریکی ممالک کے رہنماؤں کے ان بیانات کی حمایت کرتے ہیں جن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مدورو ظالم ہے، وینزویلا کو اب ہم خود چلائیں گے، ٹرمپ
یہ بھی پڑھیئے: بیلاروس کے صدر کی وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت، سلامتی کونسل کا اجلاس بلانےکامطالبہ
کاراکس میں روسی سفارت خانہ زمینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور وینزویلا کے حکام کے ساتھ ساتھ وہاں موجود روسی شہریوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
اس وقت تک ایسی کوئی اطلاع موجود نہیں کہ روسی فیڈریشن کا کوئی شہری زخمی ہوا ہو۔
یہ بھی پڑھیئے: چلاس سے اغوا ہونے والی لڑکی تین دن بعد برآمد ہو گئی