بیلاروس کے صدر کی وینزویلا پر امریکی حملے کی مذمت، سلامتی کونسل کا اجلاس بلانےکامطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے وینزویلا پر امریکی حملے کی "واضح طور پر" مذمت کی اور اسے دوسرا ویتنام قرار دے دیا ہے۔
بیلاروس کے سرکاری میڈیا نے آج ہفتہ کی شام کو رپورٹ کیا ہے کہ صدر لوکاشینکو کی پریس سکریٹری نتالیہ ایسمونٹ نے سرکاری خبر رساں ایجنسی بیلٹا کو بتایا کہ بیلاروس کے صدر وینزویلا کے خلاف امریکی جارحیت کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
"الیگزینڈر لوکاشینکو نے حال ہی میں امریکی صحافیوں کے ساتھ ایک انٹرویو میں وینزویلا پر کسی حملے کے نتائج کے بارے میں بات کی۔ خاص طور پر، انہوں نے کہا کہ 'یہ دوسرا ویتنام ہوگا۔' اور امریکیوں کو اس کی ضرورت نہیں ہے، "انہوں نے مزید کہا۔
آج امریکہ نے اچانک وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں صدارتی اقامت گاہ اور دارالحکومت کے کئی دوسرے علاقوں پر بیک وقت شدید حملے کئے اور اپنی فوج کو شہر مین اتار کر صدارتی اقامت گاہ مین موجود وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کو اپنے بقول "گرفتار" کر لیا اور ان کی بیگم کو بھی ساتھ لے گئے۔ امریکی فوج نے وینزویلا کی کئی ریاستوں میں بھی حملے کئے جن کا نشانہ عموماً فوجی اور سٹریٹیجک مقامات تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر "بڑے پیمانے پر" ہڑتال کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو "گرفتار کر کے ملک سے باہر پھینک دیا گیا ہے۔"
اس سے قبل وینزویلا کی حکومت نے امریکہ پر متعدد ریاستوں میں سویلین اور فوجی تنصیبات پر حملے کا الزام عائد کیا اور قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا۔
یہ حملے صدر نکولس مدورو پر کئی مہینوں کے امریکی دباؤ کے بعد ہوئے، جس میں ان پر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ وینزویلا کے رہنما نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی اور بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔
وینزویلا کے نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ وہ مادورو کے ٹھکانے سے "بے خبر" تھے، انہوں نے ٹرمپ سے "صدر مادورو کی زندگی کے ثبوت" کا مطالبہ کیا۔
اس سے پہلے وزارت خارجہ کا وینزویلا سے اظہار یکجہتی
بیلاروس نے وینزویلا کے خلاف بیرونی جارحیت کی مذمت کی ہے اور فوری طور پر سلامتی کونسل اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
دارالحکومت منسک میں بیلاروس کی وزارت خارجہ کئے ترجمان نے آج شام کہا ہے کہ بیلاروس وینزویلا کی پرزور حمایت کرتا ہے، بیلاروس حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں کو "مسلح جارحیت" قرار دیتے ہوئے مذمت کرتا ہے اور صدر مادورو کی حکومت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
مینسک میں بیلاروس کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ہم امریکہ کے آج کے حملے کو امن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ بیلاروس کے حکام وینزویلا کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کی پیشکش کرتے ہیں۔ ہم اپنے وینزویلا کے اندرونی ہم منصبوں کے ساتھ صورتحال پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
بیلاروس اس صورتحال کو ایک آزاد ملک وینزویلا کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔
بیلاروس کے صدر لوکاشینکو نے اس کا موازنہ ویتنام پر امریکہ کی جنگ سے کیا اور وینزویلا کو "دوسرا ویتنام" قرار دیا اور پرامن حل اور سمجھوتہ پر زور دیا۔
بیلاروس کے موقف کے اہم نکات:
بیلاروس کی جانب سے وینزویلا کی جائز حکومت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔
بیلا روس اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کے مطالبے میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: امریکی اٹارنی جنرل نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو "گرفتار"کرنےکی وجہ بتا دی
ترجمان وزارت خارجہ، بیلاروس نے کہا، اقوام متحدہ سلامتی کونسل پر عالمی امن کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جمہوریہ بیلاروس زور دیتا ہے کہ وینزویلا کے عوام کا اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرنے کا حق ناقابلِ تنسیخ ہے۔ کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت، بالخصوص طاقت کے استعمال کے ذریعے، کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بیلاروس کے صدر نے صدر نکولس مدورو کو کارکس چھوڑ کر بیلاروس آنے کی پیشکش کی تھی
اس حملے سے ڈھائی ہفتے پہلے پندرہ دسمبر کو صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے، بیلاروس کے لوکاشینکو نے کہا تھا کہ وینزویلا کے صدر مدورو کے بیلاروس منتقل ہونے کا خیرمقدم کرے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ صدر نکولس مدورو کاراکس چھوڑ کر بیلاروس آ جائیں تو ہم ان کا خیر مقدم کریں گے۔ صدر لوکاشنکو نے اس وقت بھی وینزویلا مین ممکنہ امریکی مداخلت کی مذمت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیئے: ٹرمپ کے سخت بیان کے بعد چین کا وینزویلا کی حمایت کا اعلان