ساون آئے ساون جائے:اخلاق احمد کی مدھرآواز کاسحرہمیشہ رہے گا

90 کے لگ بھگ فلموں میں 140 گیت گائے جن میں سے بیشتر بے حد مقبول ہوئے

Aug 04, 2025 | 11:25:AM
ساون آئے ساون جائے:اخلاق احمد کی مدھرآواز کاسحرہمیشہ رہے گا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)نامورپلے بیک گلوکار اخلاق احمد کو مداحوں سے جدا ہوئے26 برس بیت گئے مگر ان کے گائے ہوئے گیت انہیں آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں اور شائقین موسیقی مدتوں اس مدھر آواز کے سحرسے نہ نکل پائیں گے۔
اخلاق احمد نے جس وقت گائیکی کی دُنیا میں قدم رکھا اس دور میں گلوکاروں کا فلمی دُنیا میں جگہ بنانا نہایت مشکل تھا،تاہم انہوں نے اپنی مسحورکن آواز اورانتھک محنت سے اپنا ایک الگ مقام بنایا،انہوں نے اس دور میں اپنی آواز کا جادو جگایا جب پس پردہ موسیقی پرشہنشاہِ غزل مہدی حسن،مسعود رانا اوراحمد رُشدی کا راج تھا،اخلاق احمد کے گائے ہوئے گیتوں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں ساون آئے ساون جائے اور سونانہ چاندی نہ کوئی محل جیسے لازوال فلمی گیت بھی شامل ہیں۔
8 مئی 1946ء کو دہلی میں پیدا ہونے والے اخلاق احمد پھرکراچی آگئے اورکراچی میں قیام کے دوران شادی بیاہ کے فنکشوں میں شرکت کیا کرتے تھے ،یہ وہ دور تھاجب گلوکاروں کوکبھی کچھ پیسے مل جایا کرتے تھے اورکبھی دوستی کے نام پر ٹرخا دیا جاتا تھا، کبھی آدھے سے زیادہ معاوضہ میزبان کھا جایا کرتے تھے لیکن اخلاق احمد کی لگن سچی تھی،انہوں نے 1972ء میں فلم’’پاکیزہ‘‘سے پلے بیک گلوکاری کا آغاز کیا اور1973ء میں فلم ’’بادل اور بجلی‘‘کے گیت ’’بہکے قدم انجانی راہیں‘‘سے ان کی مقبولیت کا آغاز ہوا۔
وہ جہاں ایک باصلاحیّت فنکار تھے تو وہیں ایک نفیس انسان بھی تھے،ہمیشہ دوستوں کی خوشیوں پر مسرور اور دُکھوں پر افسردہ ہوجایا کرتے تھے،انہوں نے باقاعدہ فنّی سفر کا آغازکراچی میں اداکار ندیم اور مسعود رانا کے ساتھ ایک اسٹیج پرفارمنس سے کیاتھاجس کے ساتھ ہی پاکستان ٹیلی ویژن پر بھی گلوکاری کا آغاز کردیا اور ٹیلی ویژن کے مقبول گلوکار بن گئے،اس کے ساتھ ساتھ فلمی دُنیا میں بھی ان کی مقبولیت کا سفر جاری رہا۔


معروف اداکار ندیم نے 1974ء میں اپنی فلم’’مٹی کے پتلے‘‘میں اخلاق احمدکی آواز میں ایک نغمہ شامل کیا اور لاہور ہی میں موسیقار روبن گھوش نے اخلاق احمدکی آواز میں اپنی فلم’’چاہت‘‘کا ایک نغمہ’’ساون آئے ساون جائے‘‘ ریکارڈ کروایاجو اخلاق احمد کے فلمی سفر کا سب سے مقبول نغمہ قرار پایاجس پر انہیں خصوصی نگار ایوارڈ بھی عطا ہوا۔’’ساون آئے ساون جائے ‘‘کی ریلیز نے لاہور کی فلم انڈسٹری میں ایک تہلکہ مچا دیا اور اخلاق احمد شُہرت کی بلندیوں کی طرف آگئے جس کے بعد انہوں نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔اسی دوران موسیقار روبن گھوش نے فلم’’بندش‘‘ میں اخلاق احمد کی آواز میں پشاور سے آئے ہوئے ایک نئے شاعر سعید گیلانی کا لکھا ہوا گیت ریکارڈ کیا جس کے بول تھے:
سونا نہ چاندی نہ کوئی محل جان من تجھ کو میں دے سکوں گا
اس گیت کی مقبولیت نے اخلاق احمد پر شُہرت کے سارے دروازے کھول دیئے،اب ہر موسیقار اخلاق احمد کے گن گانے لگا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اخلاق احمد مہدی حسن اور احمد رُشدی جیسے نامور فنکاروں کی صف میں شامل ہوگئے اورسارے پاکستان میں ان کے گیتوں کی دھوم مچی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:اداکاربلال عباس سے نکاح،درفشاں سلیم نے خاموشی توڑدی
اخلاق احمد کی پوری زندگی جدوجہد سے عبارت تھی،انہوں نے زندگی کا تقریباً ایک عشرہ گلوکار بننے کی جدوجہد میں گزاردیا،ایک عشرہ عروج پر رہے اور قریباً پندرہ سال تک خون کے سرطان سے لڑتے رہے،ان کی آوازکوموسیقار روبن گھوش نے سب سے زیادہ خوب صورتی سے استعمال کیا اورانہوں نے روبن گھوش کے ساتھ کئی خوب صورت گیت گائے ۔شرافت،دو ساتھی،پہچان،دلربا،اُمنگ، زبیدہ، انسان اور فرشتہ، انسانیت،مسافر، راستے کا پتھر،آئینہ، سنگم،آدمی، پرنس، انمول محبت، خاک اور خون، بندش، مہربانی، نادانی، دوریاں، بسیرا اور لازوال جیسی فلموں میں ان کے گائے ہوئے گیت بے حد پسند کئے گئے۔
انہوں نے فنّی زندگی میں 90 کے لگ بھگ فلموں میں مجموعی طور پر 140 گیت گائے جن میں سے بیشتر گانے سُننے والوں میں بے حد مقبول ہوئے جن پر آٹھ نگار ایوارڈ بھی حاصل کئے،انہوں نے اپنے دور کے تقریباً تمام مشہور موسیقاروں کے ساتھ کام کیا جن میں روبن گھوش،سہیل رعنا،نثار بزمی اور ایم اشرف شامل ہیں لیکن خواجہ خورشید انور کے ساتھ وہ کبھی کوئی گیت نہ گاسکے،انہوں نے سب سے زیادہ ڈوئٹس (دوگانے)ناہید اختر اور نیّرہ نور کے ساتھ گائے۔
ان کے مقبول گیتوں میں فلم’’نہیں ابھی نہیں‘‘کا گانا ’’سماں وہ خواب کا سماں‘‘، فلم’’مہربانی‘‘کا گانا’’کبھی خواہشوں نے لوٹا،کبھی زندگی نے مارا‘‘، فلم ’’آئینہ‘‘ کا گانا’’حسین وادیوں سے یہ پوچھو‘‘ بھی شامل تھے،ان کا آخری گیت فلم’’گھونگھٹ‘‘ کا’’یہ دل دیوانہ ہے پیار کا‘‘ تھا۔
اخلاق احمدنے پورے کریئرکے دوران بہت زیادہ گانے کی بجائے معیاری گانوں کوترجیح دی،انہوں نے نامورگائیک مہدی حسن اور ورسٹائل سنگر احمد رُشدی کے درمیان اپنی جگہ بناکر موسیقی کی دُنیا میں اپنی ایک شناخت پیداکی تھی اور کئی امرگیت دے کرعین جوانی ہی میں اس دُنیا سے رخصت ہوگئے ،وہ10سال تک بام عروج پر رہے اس دوران ان کے گائے ہوئے گانے فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔
اخلاق احمدمیں 1985ء میں خون کاکینسر تشخیص ہوااور وہ 15 برس تک جان لیوا بیماری سے لڑنے کے بعد4اگست 1999ء کواس فانی دُنیا سے رخصت ہوگئے لیکن ان کی مدھرآواز آج بھی شائقین موسیقی کے کانوں میں رس گھول رہی ہے اور فلم انڈسٹری میں بے شمار خدمات سرانجام دینے پر انہیں صدیوں یاد رکھا جائے گا۔