لمبی جدائی: بلبل صحرا ریشماں کورخصت ہوئے12برس بیت گئے

بے شُمار گیت اوردھمالیں زبان زدِخاص وعام ہوئیں، آخری البم پکھی واس 2012ء میں ریلیز ہوا

Nov 03, 2025 | 11:15:AM
لمبی جدائی: بلبل صحرا ریشماں کورخصت ہوئے12برس بیت گئے
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ایم وقار)لمبی جدائی کی تان اُٹھانے والی بلبل صحرا ریشماں کودنیا سے رخصت12برس بیت گئے مگران کی خوبصورت آواز میں گائے گیتوں کا سحر آج بھی برقرارہے۔
ریشماں کہنے کو توایک لوک گلوکارہ تھیں لیکن انہیں سُر،لے اور تال کی اس قدر سوجھ بوجھ تھی کہ بڑے بڑے موسیقار اور گلوکار بھی حیران رہ جاتے تھے کہ اس نے یہ تعلیم کہاں سے حاصل کرلی کیونکہ وہ بالکل ان پڑھ تھیں۔ان کے والد حاجی مشتاق مویشیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا کرتے تھے،ریشماں کو اپنی صحیح تاریخ پیدائش تو یاد نہیں تھی بس یہ یاد تھا کہ جب ان کا خاندان 1947ء میں تقسیم ہندوستان  کے وقت وہاں سے  ہجرت کر کے کراچی آیا تو وہ چند ماہ کی بچّی تھیں،ریشماں کے خاندان کی خواتین شاہ بیاہ پر گڑوی کے ساتھ گایا کرتی تھیں،ریشماں نے بھی جیسے ہی ہوش سنبھالا، گڑوی کے ساتھ اپنی آواز ملانا شروع کردی،راجستھانی فوک گیت انہوں نے اپنی دیگر ہم جولیوں کے ساتھ مل کر چھوٹی عمر میں ہی گانا شروع کر دیئے تھے۔


 اولیائے کرام سے ریشماں اور ان کے خاندان کو خاص طور پر عقیدت تھی اورجب تک ان کی صحت نے اجازت دی،وہ اولیائے کرام کے مزارات پر حاضری دیتی رہیں،سیہون شریف میں وہ حضرت لال شہباز قلندرؒ کے مزار پر چھوٹی عمر سے ہی حاضری دیتی آئی تھیں وہاں عرس کے موقع پر ان کی گائی ہوئی دھمالیں حاضرین پر وجد کی کیفیّت طاری کر دیتی تھیں۔


ریشماں بارہ سال کی عمر میں سیہون شریف  میں حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے عرس کے موقع پر دھمال گارہی تھیں کہ ریڈیو پاکستان کے جوہر شناس پروڈیوسر سلیم گیلانی بھی وہاں موجود تھے اور انہوں نے”لعل میری رکھ پت رکھیوں بلا جھولے لعلن“ سُنی تو متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے،انہوں نے ریشماں کو اپنا وزیٹنگ کارڈ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی کراچی آنا ہو تو اس پتے  پر ضرور آنا۔
ریشماں کا خاندان ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتا رہتا تھا،کچھ عرصے بعد ریشماں کا جب کراچی جانا ہوا تو وہ پوچھتے پچھاتے ریڈیو پاکستان کراچی مرکز پہنچ گئیں،وہاں سلیم گیلانی نے پہلی بار ریشماں کو گائیکی کا موقع دیا،ریشماں کی آواز جب  پہلی بارفضاؤں میں بکھری توہرکوئی ان کی آواز کے سحر میں ڈوب گیاکیونکہ ان کی آواز میں صحرا کی اُداسی اوردرد تھاایسی آواز ریڈیوپاکستان  پرپہلے کسی نے نہیں سُنی تھی۔


ریشماں نے ریڈیو پاکستان پر”لعل میری پَت رکھیوں بلا“ ریکارڈ کروائی اوربہت جلداس دھمال کا چہارسو چرچا ہو گیا،ریڈیوپاکستان پرریشماں کی آواز کابہت چرچا تھا لیکن کسی نے ان کی شکل نہیں دیکھی تھی۔جب پاکستان ٹیلی ویژن پر 60ء کی دہائی میں ریشماں نے پہلی بار گائیکی کا مظاہرہ کیا تو ان کی شُہرت کو مزید پَرلگ گئے،ٹی وی پرجب سیدھی سادی ریشماں ہوک لگاتی تو دیکھنے والے اس کے سحر میں کھوجاتے تھے۔
ریشماں نے انفرادی گانوں کے ساتھ ساتھ کئی گلوکاروں کے ساتھ بھی اپنی آواز کا جادو جگایا،ان کے گائے ہوئے بے شُمار گیت اوردھمالیں زبان زدِخاص وعام ہوئے جن میں لمبی جدائی،نئیں لگدا دل میرا، سُن چرکھے دی مٹّھی مٹّھی کوک،میں چوری چوری تیرے نال لالیاں اَکھاں، میری ہم جولیاں،نہ دل دیندی بے دردی نوں،گڈّی آ گئی ٹیشن تے، گوریے میں جانا پردیس اور دیگر شامل ہیں۔
ریشماں کی شُہرت بہت جلد سرحد پار کرکے بھارت اور پوری دُنیا تک پہنچ گئی تھی،ایک بار ریشماں بھارت میں لیجنڈاداکار دلیپ کمار کے گھر پر منعقد ہونے والی ایک محفل میں گارہی تھیں کہ وہاں ہدایت کار سبھاش گئی بھی موجود تھے،وہ ریشماں کی آواز کے دیوانے ہوگئے اور ریشماں کا گایا ہوا گانا ”لمبی جدائی“ اپنی فلم ”ہیرو“ میں شامل کرلیا جو وہاں بھی بے حد مقبول ہوا،اس کے بعدریشماں بھارت میں بھی مقبول ترین گلوکاراؤں میں شامل ہوگئی، راج کپور کی فلم ”بوبی“کے لئے ریشماں کا گایا ہوا گانا ”اکھیاں نوں رہن دے“  لتامنگیشکر  نے گایا تھا۔


بھارت میں ریشماں کے پرستاروں میں فلمی ستاروں کے علاوہ سیاستدان بھی شامل تھے،اندراگاندھی جب بھارت کی وزیراعظم تھیں توانہوں نے خود ریشماں سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی،اس ملاقات کے دوران ریشماں نے بھارتی وزیراعظم سے شکوہ کیا کہ راجستھان میں ان کے آبائی علاقے تک جانے والی سڑک ابھی تک کچّی ہے جس پر اندرا گاندھی نے فوری طور پراس علاقے تک پختہ سڑک تعمیر کرنے کا حکم دیدیا،اندرا گاندھی کی طرف سے ریشماں کو بھارت میں مستقل سکونت اختیار کرنے کی بھی پیش کش کی گئی مگر ریشماں نے وہ پیش کش یہ کہہ کر مُسترد کردی کہ پاکستان نے مجھے یہ عزّت اور پہچان دی ہے،اس لئے میں اس ملک کو چھوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتی،اندرا گاندھی نے ریشماں کو ایک کلائی گھڑی کا تحفہ بھی دیا تھا جس کا ریشماں اکثر محفلوں میں ذکر کیا کرتی ہیں اور وہ گھڑی بھی دکھایا کرتی تھیں۔ 
ریشماں کو اللہ نے جو عزّت اور شُہرت دی،وہ بہت کم لوگوں کے حصّے میں آتی ہے مگر اس کے باوجود ریشماں نے کبھی سادگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا،بناوٹ کا ان میں شائبہ بھی نہیں تھا اور آخر تک انہوں نے بالکل سادہ زندگی گزاری۔
ریشماں 1980ء میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہوئیں جس کا انہوں نے کافی عرصے تک برطانیہ میں علاج کروایا،چھ سات سال قبل طبیعت خراب ہونے پرڈاکٹروں نے انہیں کھانے پینے میں احتیاط کے ساتھ ساتھ گائیکی سے بھی روک دیا تھا۔ 
ریشماں کا آخری البم ”پکھی واس“  2012ء میں ریلیز ہوا تھاجس کا ایک گانا ”ہتھ جوڑنیاں“  بہت زیادہ مقبول ہوا تھا،ریشماں نے پنجابی اوراُردو کے علاوہ سندھی،سرائیکی،پشتو، راجستھانی،فارسی، ترکی اورعربی زبان میں بھی گایا ہے،ان کے انتقال سے لوک موسیقی میں جوخلا پیدا ہوا ،اسے پُر ہونے میں شاید برسوں لگیں،ان جیسی آواز صدیوں میں پیدا ہوتی ہے