پاکستانی میڈیا تنظیموں کی عالمی یوم صحافت پر آزادی اظہار رائے کی صورتحال پر گہری تشویش

May 03, 2026 | 21:11:PM
پاکستانی میڈیا تنظیموں کی عالمی یوم صحافت پر آزادی اظہار رائے کی صورتحال پر گہری تشویش
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )پاکستان کی میڈیا نمائندہ تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی جس میں پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز، ایمنڈ اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس شامل ہیں نے عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر آزادیٔ اظہار اور صحافیوں کی سلامتی کی عالمی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اپنے مشترکہ بیان میں تنظیموں نے کہا کہ گزشتہ سال صحافت کے لیے نہایت مشکل اور چیلنجنگ رہا، جہاں ترقی پذیر ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی میڈیا پر پابندیوں اور قدغنوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

بیان کے مطابق پاکستان میں بھی آزادیٔ اظہار کی صورتحال تسلی بخش نہیں رہی، ملک میں صحافیوں کے قتل، ہراسانی، جھوٹے مقدمات، گرفتاریوں اور تشدد کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ حکومتی اور ریاستی دباؤ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

تنظیموں نے نشاندہی کی کہ میڈیا اداروں کو کنٹرول کرنے، من پسند ادارتی پالیسی نافذ کروانے، حکومتی اشتہارات کے ذریعے دباؤ ڈالنے، اعلانیہ و غیر اعلانیہ سنسرشپ کے ذریعے معلومات تک رسائی محدود کرنے اور اختلافی آوازوں کو آف ایئر کرنے جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس سے میڈیا شدید دباؤ اور غیر یقینی کا شکار ہے۔

بیان میں عالمی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بین الاقوامی تنازعات، خصوصاً غزہ میں، متعدد صحافی اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی طرح افغانستان، یوکرین، شام، یمن اور سوڈان جیسے علاقوں میں صحافیوں کو شدید خطرات اور حملوں کا سامنا رہا۔

مزید کہا گیا کہ روس، بھارت اور ایران میں بھی صحافی دباؤ، گرفتاریوں اور سنسرشپ کا شکار رہے، جبکہ امریکہ اور یورپی ممالک میں بھی میڈیا کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں۔ خاص طور پر ہنگری اور پولینڈ میں میڈیا آزادی کے حوالے سے تشویشناک صورتحال سامنے آئی۔

بیان میں فرانس میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کے دوران صحافیوں کو درپیش رکاوٹوں کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ امریکہ میں اعلیٰ سطح پر میڈیا کے ساتھ رویے کو غیر یقینی اور آمرانہ سوچ کا عکاس قرار دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق تنازع زدہ علاقوں میں بعض مواقع پر صحافیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا تاکہ وہ حقائق دنیا تک نہ پہنچا سکیں۔ اس کے علاوہ عالمی معاشی دباؤ اور میڈیا انڈسٹری کے مالی مسائل کے باعث صحافیوں کو ملازمت کے عدم تحفظ، تنخواہوں میں کمی اور پیشہ ورانہ مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

تمام تر چیلنجز کے باوجود تنظیموں نے دنیا بھر کے صحافیوں اور میڈیا اداروں کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو مشکل حالات میں بھی سچائی اور حقائق کی فراہمی کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ آزادیٔ اظہار، جمہوری اقدار اور عوام کے حقِ معلومات کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی، اور ہر حال میں سچائی اور شفافیت کے فروغ کے لیے آئینی و جمہوری کردار ادا کیا جاتا رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں :سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ متوقع