قم میں شوریٰ خبرگان کے مرکزی دفتر پر میزائل حملہ، عمارت تباہ، ارکان محفوظ

Mar 03, 2026 | 22:51:PM
 قم میں شوریٰ خبرگان کے مرکزی دفتر پر میزائل حملہ، عمارت تباہ، ارکان محفوظ
کیپشن: قم مین شوریٰ خبرگان کے مرکزی دفتر پر میزائل حملے کے بعد یہ یہ تصاویر سرکاری نیوز چینل سے نشر کی جانے والی ایک فوٹیج سے لی گئی ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) میڈیا میں رپورٹس آ رہی ہیں کہ قم میں  شوریِٰ خبرگان (مجلسِ خبرگان) کے ہیڈ آفس پر میزائل حملہ ہوا ہے جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

آج 3 مارچ، 2026 کو قم میں شوری خبرگان کی مرکزی  عمارت کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجہ میں عمارت بری طرح تباہ ہو گئی۔ ایران کے میڈیا نے بتایا کہ اس حملے سے جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس میزائل حملے کو ایران پر جاری  امریکی-اسرائیلی حملوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے۔  
 ایران کے شہر قم میں وہ عمارت جو 88 رکنی شوریٰ خبرگان کے مرکزی دفتر کے طور پر عرصہ سے زیر استعمال تھی، آج میزائل حملے میں ملیا میٹ ہو گئی ہے۔ شوریٰ خبرگان ایرانی آئین کے مطابق وہ ادارہ ہے جسے نئے روحانی  لیڈر اور سپریم لیڈر کا انتخاب کرنا ہے۔  اس ادارہ کو مجلسِ خبرگان بھی کہا جاتا ہے اور شوریِٰ خبرگان بھی۔  جب سے یہ ادارہ بنا ہے اسے دوسری مرتبہ ولیِ فقیہہ  اور مرجعِ خلائق کا انتخاب کرنا  ہے۔ موجودہ ارکان کو اپنے انتخاب کے بعد پہلی مرتبہ یہ چیلنج درپیش ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  آیت اللہ خامنہ ای کی موومنٹ کو ٹریفک کیمروں سے ٹریک کیا، انسانی ذریعہ اسرائیل کے پاس نہیں تھا 

  1979 کے انقلاب کے بعد ترتیب دیئے گئے نظام میں آیت اللہ خمینی از خود سپریم لیڈر مان لئے گئے تھے۔ ان کی  1989 میں وفات کے وقت انہیں زمین پر امامِ غائب کا نائب مانا جاتا تھا اور مرجعِ خلائق تسلیم کیا جاتا تھا۔امام خمینی کی رحلت کے بعد  جون  1989 میں شوریٰ خبرگان کا اجلاس ہوا تو ان کی زبانی وصیت سے ان  خامنہ ای کو ان کی مسند عطا کر دی گئی۔ خامنہ ای اس وقت رتبہ کے اعتبار سے صرف  آیت اللہ تھے اور حجتہ الاسلام تھے، انہیں مرجعِ خلائق کا رتبہ حاصل نہیں تھا۔ اس وقت شوریٰ خبرگان نے نئے سپریم لیدر کے انتخاب کی شرط "مرجعِ خلائق" لازمی ہونا مین ترمیم کر کے آیت اللہ خامنہ ای کو ملک کا رہبرَِاعلیٰ منتخب کر لیا تھا۔ 

  اب آیت اللہ خامنہ ای کی بہت طویل عرصہ تک جاری رہی سیادت کے اچانک خاتمہ کے بعد ایران کے نظام کو ریاست کے تمام اداروں کے رہبر کے انتخاب کا مرحلہ طے کرنا ہے۔ آئین نے یہ ذمہ داری شوریٰ خبرگان کو تفویض کی ہے جن کے انتخاب کو کوئی ادارہ چیلنج نہیں کر سکے گا، شوریٰ خبرگا ن کا اس اہم انتخاب کے لئے اب تک کوئی اجلاس نہیں ہوا۔ اب غالباً کسی اجلاس کی تیاری کی جا رہی تھی کہ آج قم میں خبرگان کے مرکزی دفتر کی حیثیت سے استعمال ہونے والی عمارت پر حملہ کر کے اسےت کھنڈر بنا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیئے:  ابھی روانہ ہو جاؤ: لاکھوں  امریکیوں کو اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے تقریباً تمام ممالک فوراً چھوڑنے کاحکم 
 اس حملے کے متعلق خود  اسرائیلی حکام نے بتایا کہ اس حملے کا مقصد آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے انتخاب کے عمل میں خلل ڈالنا تھا۔
اس حملے میں جانی نقصان کے متعلق متضاد اطلاعات ہیں۔  ایرانی میڈیا میں تسنیم اور مہر جیسی ریاست سے وابستہ نیوز ایجنسیوں نے اطلاع دی کہ عمارت کو  زمین بوس کر دیا گیا۔ لیکن ساتھ ہی یہ رپورٹ کیا کہ اسے میزائل حملے سے پہلے خالی کر دیا گیا تھا یا  یہ کہ میزائل لگنے کے وقت عمارت استعمال میں نہیں تھی۔
اسرائیل کی کچھ  میڈیا آؤٹ لیٹس نے  سرکاری براڈکاسٹر کان کے حوالے سے یہ یہ قیاس آرائی شائع کی  کہ حملہ اس وقت ہوا جب  وہاں مجلسِ خبرگان کے ارکان  اجلاس کر رہے تھے، جس سے ممکنہ طور پر سینئر علماء پر مشتمل اس مجلس کا جانی نقصان ہوا۔

تہران میں شوریٰ خبرگان کے ایک اور دفتر پر حملہ

 تہران میں شوریٰ خبرگان (مجلسِ خبرگان)  کے دفتر کو بھی مبینہ طور پر 2 مارچ کی رات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے کی اطلاع ویب سائٹ ڈل ایسٹ آئی نے شائع کی۔

شوریٰ خبرگان کے نئے رہبر کے انتخاب سے پہلے عارضی انتظام
جب تک شوریٰ خبرگان کے علما اپنی مشاورت کر کے نئے رہبر کا انتخاب نہیں کرتے، تب تک حکومت اور ریاست کے اداروں کی رہبری کا فریضہ عارضی طور پر تین شخصیات کی کمیٹی کو سونپا گیا ہے جن میں موجودہ صدر مسعود پیزشکیان، موجودہ چیف جسٹس غلام حسین محسنی اور ایک آیت اللی علی رضا عرفی شامل ہیں۔ ریاست کے امور کو ادارے خود انجام دیتے ہیں،  رہبر ضرورت کے وقت خاص اختیارات استعمال کرتا ہے، جنگ کے دوران یہ "ضرورت کا وقت" بار بار آ سکتا ہے۔ اس وقت عبوری لیڈر شپ کونسل فی الحال ریاستی امور کا انتظام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے:  ایران کے عارضى وزیر دفاع مجید بن الرضا اسرائیلی و امریکی حملے میں جاں بحق