قرآن کریم میں شب قدر کو لیلتہ مبارک ٰ یعنی برکت والی رات قرار دیا گیا ہے، مفتی فضل سبحان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) ممتاز مذہبی سکالر مفتی فضل سبحان نے کہا ہے کہ قرآن کریم میں شب قدر کو لیلتہ مبارک ٰ یعنی برکت والی رات قرار دیا گیا ہے۔
پروگرام گونج مسعود رضا کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے مذہبی اسکالر مفتی فضل سبحان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امت محمدی کو کچھ دن کچھ راتیں کچھ ساعتیں کچھ گھڑیاں ایسی نصیب فرمائی ہیں جس میں مسلمان تھوڑا عمل کر کے زیادہ کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ اسی میں سے ایک شب برات ہے۔
شعبان کا پورا مہینہ ہی رمضان کے لیے مقدمہ ،تمہید اور استقبال ہے، جیسے کسی ہائی پروفائل مہمان کے آنے پر پہلے سے تیاریاں شروع کی جاتی ہیں تو اسی طرح نبی پاک ﷺرمضان کے بعد جو سب سے زیادہ نفلی روزے رکھتے تھے، وہ ماہ شعبان میں رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیئے: جے شاہ کیا ہے؟ آسٹریلین مصنف نے سوشل میڈیا پر پول کھول دیا
یہ ہی وجہ تھی کہ رجب کا چاند دیکھ کر دعا مانگی جاتی ہے (ترجمہ: اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے)تو یہ جو شب برات ہے۔ قرآن کریم میں اس کو لیلتہ مبارک ٰ یعنی برکت والی رات قرار دیا گیا اور حدیث پاک میں فرمایا گیا یہ جو رات ہے اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تجلی فرماتے ہیں اور ندا ہوتی ہے کہ ہے کوئی مغفرت کا طلبگارکہ میں اس کی مغفرت کروں ،ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق کی فراوانی دوں، ہے کوئی مصیبتوں میں مبتلا کہ میں اس کو عافیت والی زندگی دے دوں ۔
مفتی فضل سبحان نے مزید کہا کہ 10 صحابہ کرام جن میں ابو بکر ،حضرت علی ،حضرت عائشہ ،حضرت معاذ ابن جمل،حضرت ابو موسیٰ اشعری سے اس کے فضائل منقول ہیں اگرچہ بعض روایات ضعیف ہیں لیکن جب متعدد صحابہ کسی ایک روایت کو بیان کرتے ہیں تو اس کا ضعف ختم ہو جاتا ہے اور وہ درجہ حسن کو پہنچ جاتی ہیں جب کہ اس میں تواتر بھی ہو اور فضائل میں ویسے بھی ضعیف روایات کو لیا جا سکتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: انڈر19ورلڈ کپ؛ آسٹریلین کیپٹن کی غیرمعمولی سینچری، ایک اوور میں1 چھکا،4 چوکے مار ڈالے
حضرت علی اس رات کے بارے میں فرماتے ہیں (ترجمہ: اس کے دن میں روضہ رکھنا ہے اور اس کی رات میں قیام کرنا ہے )یعنی جو نفلی عبادات ہوتی ہیں یہ خلوت کی عبادات ہوتی ہیں اس میں اجتماعی طور پر جماعت تو نہیں کرائی جاتی وہ مکرو ہے لیکن انفرادی طور پر عبادت کی جائے راز و نیاز کیا جائے اور اگر یوں کہا جائے کہ یہ رات شب برات جہنم سے برات ہوجاتی ہے یا اللہ تعالیٰ گناہ گاروں سے برات یا بیزاری کا اعلان کرتے ہیں یہ شب دعا ہے (ترجمہ: دعا عبادت کا مغز ہے )اور یہ شب توبہ ہے اللہ کے آگے گڑگڑانے کا اور ندامت کے آنسو بہانے کا نام ہے ۔
علامہ علوسی نے سورۃ قدر کی تفصیر میں لکھا ہے کہ اللہ کو گناہ گاروں کا رونا تسبیح کرنے والوں کی تسبیح سے بھی پیارا لگتا ہے تو جو ساری رات اللہ کی تجلیات کا مشاہدہ کے ساتھ فرشتوں کا نزول ہوتاہے تو یہ انسانوں کے لیے بخشش کے پروانے لے کر آتے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیئے: پاکستان نے امریکہ ایران مذاکرات میں دعوت ملنے کی تصدیق کردی