وزیر خزانہ کی انوکھی منطق

تحریر؛وقاص عظیم 

Dec 03, 2025 | 21:48:PM
وزیر خزانہ کی انوکھی منطق
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 آئی ایم ایف کی پاکستان میں کرپشن ڈائیگناسٹک  اسیسمنٹ رپورٹ حال ہی میں جاری کی گئی ہے،آج قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے بھی اس پر وزارت خزانہ سے بریفننگ لی ہے ،اس طرح کی پارلیمانی کمیٹیوں میں دراصل ایسی رپورٹس کی پردہ پوشی کرنا اور مٹی ڈالنا ہوتا ہے، کمیٹی میں بنیادی سوال سامنے آیا ہے کہ یہ رپورٹ یعنی 5300 ارب روپے کی کرپشن کا زمہ دار کون ہے ؟ 
سینیٹر فاروق نائیک نے کہا کہ یہ رپورٹ سیاست دانوں کے خلاف نہیں بلکہ حکومت اور سرکاری افسروں کے خلاف ہے، پیپلز پارٹی کے ہی نوید قمر نے کہا کہ نہیں یہ رپورٹ دراصل سیاست دانوں کے خلاف لکھی گئی ہے،پارلیمنٹ کے خلاف ہے،دلچسپ صورتحال س وقت پیدا ہوئی جب وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،یہ رپورٹ کسی کے خلاف نہیں ہے،آئی ایم ایف اس طرح کی رپورٹس دنیا کے اور ممالک کے لیے بھی جاری کرتا رہتا ہے،بے فکر ہو جائیں،یہ رپورٹ سسٹم میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کرتی ہے،حکومت ان خرابیوں کو دور کر رہی ہے۔ 
پاکستان میں کرپشن کے واقعات زبان زد عام ہیں ،افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس کرپشن کی زمہ داری لینے کے لیے کوئی بھی ادارہ تیار نہیں ہے،کوئی یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ واقعی ہم کرپٹ ہیں بلکہ ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ میں صاف شفاف ہوں اور باقی ارد گرد کرپٹ لوگ موجود ہیں۔ 
سیاست دان ، عدلیہ اور بیورو کریسی یہ سمجھتی ہے کہ کرپشن سسٹم کا حصہ ہے۔ 
یہ تو آئی ایم ایف کی مہربانی ہے کہ اس نے حکومت کو قرض کی اگلی قسط کے لیے کرپشن سے متعلق یہ رپورٹ جاری کرنے پر مجبور کیا ورنہ پاکستان کا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ اس رپورٹ کو جاری کرے کیونکہ یہ ہم ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کرپشن ہو رہی ہے۔ 

بالکل اسی طرح آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کا حشر ہوتا ہے ، حال ہی میں جو آڈیٹر جنرل نے آڈٹ رپورٹس جاری کی ہیں اس میں پہلے 375 ٹریلین روپے کی کرپشن کا دعویٰ کیا گیا ، بعد میں یہ کہا گیا کہ ٹریلین اور بلین کے چکر میں ٹائپو غلطی ہوگئی ہے۔ اتنی کرپشن  نہیں ہے ، بلکہ کرپشن نہیں  بے ضابطگیاں ہوئی ہیں ۔ آڈٹ رپورٹس میں 9.76 ٹریلین روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

 اس میں بھی قومی خزانے کو بہت معمولی نقصان پہنچا ہے ، تو آڈیٹر جنرل بھی ملک میں کرپشن کی زمہ داری لینے کو تیار نہیں ہیں،جمیعت علماء اسلام کے سینیٹرکامران مرتضیٰ نے آڈیٹر جنرل سے بیان حلفی مانگا ہے کہ لکھ کر دیں کہ 375 ٹریلین روپے کی بے ضابطگیوں پر ٹائیپو غلطی ہوگئی ہے،آڈیٹر جنرل آف پاکستان وہ بیان حلفی دینے کو تیار نہیں ہیں،سینیٹر عبد القادر نے بالکل درست کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی زمہ داری کوئی نہیں لیتا،صرف دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اگر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو میرا نام تبدیل کر دینا ۔

یہ بھی پڑھیں :  ایسے نہیں چلے گا ،،،ٹریفک مسائل کے خاتمے کے لیے مضبوط حکمت عملی اپنانا ہوگی