ایسے نہیں چلے گا ،،،ٹریفک مسائل کے خاتمے کے لیے مضبوط حکمت عملی اپنانا ہوگی 

تحریر : زین مدنی حسینی 

Dec 02, 2025 | 19:00:PM
ایسے نہیں چلے گا ،،،ٹریفک مسائل کے خاتمے کے لیے مضبوط حکمت عملی اپنانا ہوگی 
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

حکومت پنجاب کی جانب سے ٹریفک قوانین کی سختی اور مسلسل بڑھتے ہوئے جرمانوں نے شہریوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ چند دنوں کے دوران نہ صرف ہزاروں موٹر سائیکل سواروں کے چالان کیے گئے بلکہ درجنوں کم عمر ڈرائیورز پر ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے، جو اب ایک نئے بحث طلب مسئلے کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

 حکومت نے اپنی مہم اس نیت سے شروع کی کہ ٹریفک نظام بہتر ہو، حادثات کم ہوں اور قانون کی عمل داری مضبوط بنے، مگر اس پورے عمل میں چند ایسے پہلو ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ درست ہے کہ کم عمر بچے موٹر سائیکل نہ چلائیں۔ میں خود اس بات کا قائل ہوں کہ والدین کی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بارہ، چودہ یا سولہ سال کے بچوں کو سڑکوں پر موٹر سائیکل دے کر نہ بھیجیں۔

 لیکن اس کے باوجود جو صورتحال اب سامنے آ چکی ہے وہ نہ صرف غیر متوازن ہے بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے شدید نقصان دہ بھی بن سکتی ہے۔ کم عمر ڈرائیورز پر مقدمات درج ہونے اور کریمنل ریکارڈ بن جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان بچوں کے آنے والے برسوں میں کئی ایسے دروازے بند ہو سکتے ہیں جن کا انہیں اس عمر میں اندازہ بھی نہیں۔

ایک نوجوان جس کا نام ایف آئی آر میں درج ہو جائے، چاہے جرم معمولی ہو، اس کے لیے مستقبل کی رہے آسان نہیں رہتیں۔ جب یہ بچے کل کو کسی کالج میں داخلہ لیں گے تو ان سے بیک گراؤنڈ پوچھا جائے گا۔ جب کسی بڑے ادارے یا بینک میں نوکری کے لیے درخواست دیں گے تو سب سے پہلے ان کے ریکارڈ کی چھان بین ہوگی۔

 بیرون ملک ویزا لینے کی بات آئے تو ممالک سب سے پہلے یہی دیکھتے ہیں کہ درخواست دہندہ کا کوئی کریمنل ریکارڈ تو نہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایک بچہ جو محض کم عمری میں موٹر سائیکل چلاتے پکڑا گیا، وہ پوری زندگی اس ایک غلطی کا بوجھ کیوں اٹھائے؟

اس مسئلے کا ایک اور پہلو پولیس کا رویہ بھی ہے۔ مختلف علاقوں میں شہریوں نے شکایت کی ہے کہ چیکنگ کے دوران سختی، ڈانٹ ڈپٹ اور بعض جگہ بدتمیزی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

 قانون نافذ کرنے والوں کا رویہ اگر تعاون پر مبنی ہو تو شہری بھی قانون کی پاسداری میں خود کو ذمہ دار محسوس کرتے ہیں، مگر جب کارروائیاں اس قدر خوف اور دباؤ سے کی جائیں کہ لوگ ٹریفک وارڈن کو دیکھ کر ہی گھبرا جائیں تو یہ نفاذِ قانون نہیں بلکہ ایک بے اعتمادی کا ماحول پیدا کرتا ہے۔

پھر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حکومت نے جرمانوں اور مقدمات کی سختی تو بڑھا دی، مگر کیا سڑکیں بہتر ہوئیں؟ کیا ٹریفک سگنلز درست ہوئے؟ کیا لین مارکنگ ٹھیک ہوئی؟ کیا یوٹرنز مناسب جگہوں پر بنائے گئے؟ حقیقت یہ ہے کہ ٹریکس ٹوٹے ہوئے ہیں، سڑکیں کھڈوں سے بھری ہیں، اشارے کئی جگہ کام نہیں کرتے، تجاوزات نے گزرگاہیں تنگ کر رکھی ہیں، اور ٹریفک مینجمنٹ اکثر جگہوں پر بدترین شکل میں نظر آتی ہے۔

 ایسے حالات میں صرف جرمانے بڑھانے سے ٹریفک کیسے بہتر ہو سکتا ہے؟ شہریوں کا خیال ہے کہ حکومت نے مشکل حصے کو چھوڑ کر آسان راستہ اختیار کیا ہے، یعنی چالان کے ذریعے ریکوری۔

گزشتہ چند ہفتوں میں کروڑوں روپے کے چالان ہو چکے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ اگر جرمانے اس قدر زیادہ ہو رہے ہیں تو کیا یہ اصلاحِ احوال ہے یا آمدن بڑھانے کا ایک نیا ذریعہ؟ ٹریفک کو بہتر بنانے کے لیے تربیت، آگاہی، انفراسٹرکچر اور شائستہ رویہ ضروری ہے، مگر سب کچھ چھوڑ کر صرف جرمانوں کو ہی واحد حل سمجھ لینا درست حکمت عملی نہیں۔

سب سے تکلیف دہ پہلو پھر وہی ہے کہ نوجوان نسل کے خلاف مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ کیا حکومتوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسی نسل تیار کریں جو جرم کے خوف کے سائے میں پروان چڑھے؟ کیا ایک غلطی کی سزا پوری زندگی ملنی چاہیے؟

 ریاست تو ماں جیسی ہوتی ہے۔ ماں بچوں کو سکھاتی ہے، ڈانٹتی بھی ہے، لیکن انہیں ایسا داغ نہیں لگاتی کہ وہ ساری عمر سر اٹھا کر نہ چل سکیں۔ کم عمر ڈرائیونگ روکنی ہے تو والدین کو پابند کیا جائے، جرمانہ والدین سے لیا جائے، مگر بچوں کا کریمنل ریکارڈ بنانے کا اختیار انتہائی محتاط سوچ کے ساتھ استعمال ہونا چاہیے۔

حکومت اگر واقعی ٹریفک نظام بہتر دیکھنا چاہتی ہے تو اسے پہلے خود وہ ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی جن کا تعلق سڑکوں، ٹریفک مینجمنٹ، شہری سہولتوں اور ٹریفک پولیس کی تربیت سے ہے۔ قوانین کا نفاذ ضروری ہے، مگر قانون ہمیشہ تب اثر کرتا ہے جب اس کے پیچھے انصاف، توازن، انسانیت اور حکومتی اخلاقی ذمہ داری موجود ہو۔ اگر یہ پہلو نظر انداز رہے تو ٹریفک نظام تو شاید نہ سنورے، مگر شہریوں کی مشکلات ضرور بڑھتی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں :بھارت جانے والی پرواز کی بم کی اطلاع پر ہنگامی لینڈنگ