وقتی اور نمائشی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، مستقل اور دیرپا پالیسی ناگزیر ہے، سہیل آفریدی

Apr 03, 2026 | 18:29:PM
 وقتی اور نمائشی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، مستقل اور دیرپا پالیسی ناگزیر ہے، سہیل آفریدی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)  خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت بڑھنے پر وفاقی حکومت پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ  ڈالر کی قدر میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھے گی، اور پیٹرول مہنگا ہونے سے بجلی، مہنگائی اور بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا۔ 

 سہیل آفریدی نے آج پشاور میں خیبر پختونخوا کی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا،  وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھا دیا، پاکستان کی تقریباً 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے جا چکی ہے۔ موجودہ مہنگائی کا بوجھ غریب، مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس سب برداشت نہیں کر پا رہے۔ وقتی اور نمائشی اقدامات سے مسائل حل نہیں ہوں گے، مستقل اور دیرپا پالیسی ناگزیر ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ  بانی پی ٹی آئی کی حکومت میں عالمی وبا کے باوجود معیشت6.1 فیصد شرح سے ترقی کر رہی تھی۔

کورونا وبا کے دوران انٹرنیشنل آئل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت  صفر ڈالر فی بیرل سے بھی نیچے گر گئی تھی ( 20 اپریل 2020 کو منفی  37 ڈالر فی بیرل) لیکن خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ  کورونا وبا کے دوران عالمی سطح پر مہنگے تیل کے باوجود عوام کو ریلیف دیا گیا۔

سہیل آفریدی نے پیٹرول کی قیمت ماضی میں 150 روپے تک محدود رکھی گئی، موجودہ دور میں 450 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا،  حکمران عوام پر مسلسل بوجھ ڈال رہے ہیں، ان کے پاس نہ کوئی پالیسی ہے نہ بحران سے نکلنے کا واضح منصوبہہے۔

سہیل آفریدی نے کہا،  خیبر پختونخوا حکومت کی موٹر سائیکل سواروں اور کسانوں کے لیے ریلیف پالیسی کو قومی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ قومی بحران کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت پاکستان کے مفاد میں کردار ادا کر رہی ہے۔ وفاق کی جانب سے صوبائی فنڈز میں کٹوتی کی کوششوں کا مؤثر مقابلہ کیا گیا۔ این ایف سی میں صوبے کا حصہ مکمل طور پر ادا نہیں کیا جا رہا۔

سہیل آفریدی نے کہا،  قبائلی اضلاع کو مالی طور پر مکمل ضم نہ کرنا وفاق کی ناکامی ہے، قبائلی اضلاع کا حق دیگر صوبے استعمال کر رہے ہیں۔ حالیہ سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ صوبے نے خود برداشت کیا۔ ناکام قومی پالیسیوں کے باعث دہشتگردی بڑھی اور عوام کو گھروں سے جبری انخلا پر مجبور کیا گیا۔  دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی صوبہ اپنے وسائل استعمال کر رہا ہے، وفاق سے امداد نہیں مل رہی۔ عوامی مینڈیٹ سے آنے والی قیادت ہی عوام کے مسائل کا ادراک رکھتی ہے۔ 

 سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ  درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ وفاقی حکومت کو فوری طور پر واضح اور جامع معاشی پالیسی پیش کرنی چاہیے۔ خیبر پختونخوا حکومت صوبائی سطح پر کرائسز مینجمنٹ پالیسی تشکیل دے گی۔ مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے مزید ریلیف اقدامات جلد متعارف کرائے جائیں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ  صوبائی حکومت عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبنے نہیں دے گی۔