ایف آئی اے امیگریشن نے 23 مسافروں کو آف لوڈ کرنے کی وضاحت کر دی
کسی مسافر کے پاس فارن سروس ایگریمنٹ موجود نہیں تھاجس پران کو آف لوڈ کیا گیا،ترجمان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(درِشہوار )ایف آئی اے امیگریشن نے گمراہ کن خبروں کی تردید کرتے ہوئے 23 مسافروں کو آف لوڈ کرنے کی وضاحت کر دی۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر بحرین کے لیے ورک ویزا پر جا رہے تھے تاہم امیگریشن کے دوران مشکوک صورتحال پر انہیں مزید جانچ کے لیے روکا گیا،ابتدائی طور پر مسافروں نے روزگار رشتہ داروں کے ذریعے حاصل کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن تفصیلی تفتیش میں بیانات غلط ثابت ہوئے ہیں۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی اے نے میڈیا میں گردش کرنے والی گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا،23 مسافر بحرین کے لیے پاکستانی پاسپورٹس اور ورک ویزا کے ساتھ روانہ ہو رہے تھے،روٹین امیگریشن کے دوران مسافروں کو مزید جانچ پڑتال کے لیے ریفر کیا گیاتوتفصیلی جانچ پر بیانات غلط اور گمراہ کن ثابت ہوئے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق بعد ازاں مسافروں نے ایجنٹس کے ذریعے روزگار حاصل کرنے کا اعتراف کیا،تمام مسافروں کی ایک ہی فلائٹ پر بکنگ مشکوک انداز میں کی گئی تھی،مسافر اپنے کام کی نوعیت اور تفصیلات بتانے میں ناکام رہے،کسی بھی مسافر کے پاس فارن سروس ایگریمنٹ موجود نہیں تھا،ان وجوہات کی بنیاد پر تمام 23 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی ہماری بات سن رہے ہیں، کچھ لوگ اب انکی چھٹی کرانا چاہتے ہیں:رانا ثناء اللہ
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قانونی تقاضے پورے کر کے پری ڈیپارچر امیگریشن ڈیسک سے کلیئرنس حاصل کریں،ایف آئی اے قانون کے مطابق حقیقی مسافروں کی سہولت اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔